دعوتی واقعات
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی علی ابن ابی طالب سے کہا کہ کچھ کھانا تیار کرو اور بنو ہاشم کے لوگوں کو میرے پاس بلاؤ۔ اس کے مطابق گوشت اور دودھ کا انتظام کیا گیا اور لوگوں کو بلایا گیا۔ تقریباً 40 آدمی جمع ہوئے۔ جب لوگ کھا چکے تو آپ نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی اور کہا کہ مجھ کو اللہ نے اس کام کے لیے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔ تم لوگ اس کام میں میرا ساتھ دو۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ تم میں سے کون میرے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہے اور میرے پیچھے میرے اہل خانہ میں میری نیابت کے لیے تیار ہوتا ہے۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ یہ سن کر تمام لوگ چپ ہو گئے۔ کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ نے دوسری بار اور تیسری بار یہی بات کہی۔ مگر حاضرین میں سے کسی شخص نے حمایت کا وعدہ نہ کیا۔ جب میں نے سب کو خاموش دیکھا تو میں کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اگر چہ میری آنکھیں دکھ رہی ہیں اور میری ٹانگیں پتلی ہیں۔ مگر میں اس راہ میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تم اے علی، تم اے علی: أَنْتَ يَا عَلِيُّ أَنْتَ يَا عَلِيُّ (مسند البزار، حدیث نمبر 456)۔ ضما د قبیلہ از دشنوہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ زیارت کے لیے مکہ آئے۔ ایک مجلس میں ابو جہل اور عقبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف تھے۔ وہ لوگ باتیں کر رہے تھے۔ ضما د بھی ان کے پاس بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے کہا کہ اس شخص (محمد) نے ہماری جماعت میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اس نے ہم سب کو بے وقوف کہا اور ہمارے بزرگوں کو گمراہ بتایا۔ ہمارے معبودوں (بتوں) کو برا کہا۔ امیہ بولا کہ اس آدمی کے مجنوں ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ضما د کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی بات سن کر مجھے خیال ہوا کہ محمد پر شاید آسیب کا اثر ہو گیا ہے۔ چوں کہ میں آسیب کا علاج کرنا جانتا تھا، میں محمد کی تلاش میں چل پڑا۔ پہلے دن تلاش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader