Urdu book · سیرتِ رسول

دعوتی واقعات

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

کے باوجود میں آپ کو نہ پا سکا۔ جب اگلا دن ہوا تو میں نے آپ کو مقام ابراہیم میں نماز پڑھتے ہوئے پالیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں آپ کے پاس گیا۔ میں نے کہا کہ اے محمد، میں ان چیزوں کا علاج کرتا ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کا علاج کروں۔ شاید اللہ آپ کو شفا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضماد کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ نے کہا کہ تمام تعریف صرف اللہ کے لیے ہے۔ ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اللہ جس کو صحیح راستہ پر لگائے، کوئی اسے گمراہ کرنے والا نہیں، اور جس کو وہ بے راہ کر دے اس کو کوئی راستہ بتانے والا نہیں۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ صرف ایک اللہ عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔ ضماد نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے کاہنوں اور جادوگروں کی باتیں سنی ہیں اور میں شاعروں کے کلام سے بھی واقف ہوں۔ مگر آپ نے جو کلمات کہے، ایسے کلمات میں نے کبھی نہیں سنے۔ اپنا ہاتھ لائیے، میں آپ سے اسلام پر بیعت کرتا ہوں۔ وہ اسی وقت اسلام میں داخل ہو گئے۔ حصین کہتے ہیں کہ قریش کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے۔ حصین زیادہ عمر کے آدمی تھے اور قریش ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ قریش نے حصین سے کہا کہ آپ اس شخص (محمد) سے بات کیجئے۔ وہ ہمارے معبودوں کو بہت برا بتاتے ہیں۔ وہ لوگ حصین کے ساتھ آپ کے پاس آئے۔ حصین نے کہا کہ یہ کیا باتیں ہیں جو ہم کو آپ کی طرف سے پہنچ رہی ہیں۔ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں۔ حالانکہ آپ کے والد تو بہت اچھے آدمی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصین سے کہا کہ یہ بتاؤ کہ تم لوگ کتنے معبودوں کی پرستش کرتے ہو۔ حصین نے کہا کہ سات معبودوں کی زمین پر اور ایک معبود وہ جو آسمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page