دعوتی واقعات
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ہے۔ آپ نے کہا کہ جب تمہارے اوپر مصیبت آتی ہے تو کس معبود کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا کہ آسمان والے معبود کو۔ آپ نے دوبارہ کہا کہ جب تمہارے مال میں نقصان ہوتا ہے تو اس وقت کس کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا کہ آسمان والے کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تمہاری فریاد رس کرنے والا خدا تو ایک ہے اور تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ حصین کہتے ہیں کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں نے ایسے آدمی سے کبھی بات نہیں کی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اے حصین، اسلام قبول کرو، تم نجات پاؤ گے۔ حصین نے کہا کہ میرے اور بھی گھر والے ہیں، تو ان کے لیے میں کیا کہوں۔ آپ نے کہا کہ اس طرح دعا کرو کہ: اے اللہ، میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تو میرے معاملہ کو درست کر دے۔ اور مجھے ایسا علم دے جو مجھے نفع پہنچانے والا ہو۔ حصین نے اس دعا کو دہرایا اور رخصت ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا۔ ہجرت سے پہلے مدینہ کے قبیلہ خزرج کا ایک وفد مکہ آیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ قریش سے اپنی حمایت کا عہد لیں۔ اس وفد میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے آنے کی خبر ہوئی تو آپ ان کی قیام گاہ پر جا کر ان سے ملے۔ جب آپ ان کے پاس بیٹھ گئے تو آپ نے ان سے کہا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ جس کام کے لیے تم لوگ یہاں آئے ہو، اس سے زیادہ بھلی بات میں تم کو نہ بتا دوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کون سی بات ہے۔ آپ نے کہا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ نے مجھ کو اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلاؤں اور ان سے کہوں کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اللہ نے میرے اوپر اپنا کلام اتارا ہے۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر انہیں سنایا۔ ایاس بن معاذ جو اس وقت نوجوان تھے، انہوں نے آپ کی باتیں سن کر اپنے لوگوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader