Urdu book · سیرتِ رسول

دعوتی واقعات

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

سے کہا کہ اے قوم، خدا کی قسم، یہ چیز اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم یہاں آئے ہو۔ یہ سن کر وفد کے ایک شخص انس بن رافع نے اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر ایاس بن معاذ کے چہرہ کی طرف پھینکی اور کہا کہ ان باتوں کو چھوڑو۔ خدا کی قسم، ہم تو کسی اور ہی کام کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ایاس بن معاذ چپ ہو گئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آئے اور وہ لوگ اپنا کام کر کے مدینہ واپس چلے گئے۔ مدینہ پہنچ کر ایاس بن معاذ کا انتقال ہو گیا۔ ان کے قبیلہ کے جو لوگ وفات کے وقت ان کے پاس موجود تھے، ان میں سے ایک شخص کا بیان ہے کہ آخر وقت میں لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر اور سبحان اللہ کے الفاظ ان کی زبان پر جاری تھے۔ ان کے قریب جو لوگ تھے وہ اس کو برابر سن رہے تھے۔ عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے کے بعد تین سال تک چھپ کر مکہ میں تبلیغ کرتے رہے۔ اس کے بعد تقریباً دس سال تک آپ نے کھلے طور پر لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ ابو طالب کی وفات کے بعد آپ حج کے موسم میں عکاظ اور مجنہ اور ذوالحجاز کے میلوں میں جاتے اور لوگوں کی قیام گاہوں میں ان سے مل کر انہیں اپنا پیغام دیتے ۔ اسی کے ساتھ آپ یہ بھی کہتے کہ تم لوگ مجھے اپنی حفاظت میں لے لو تاکہ میں اللہ کا پیغام پہنچانے کا کام کر سکوں۔ جو اس کام میں میری مدد کرے گا، اللہ اس کے بدلے اس کو جنت دے گا۔ مگر کوئی قبیلہ آپ کی مدد اور حفاظت کے لیے تیار نہ ہوا۔ آپ عرب کے ایک ایک قبیلہ کے پاس گئے ۔ مگر کسی نے بھی آپ کی حفاظت کی ذمہ داری نہ لی ۔ اسی دوران آپ بنو عامر بن صعصعہ کے پاس پہنچے ۔ انہوں نے آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ آپ اس حال میں ان کے پاس سے لوٹے کہ وہ لوگ آپ کے اوپر پتھر پھینک رہے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page