Urdu book · سیرتِ رسول

دعوتی واقعات

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ قبیلہ بنو محارب بن خصفہ سے ملے۔ اس قبیلہ میں ایک بوڑھا آدمی تھا جس کی عمر سال سے زیادہ تھی۔ آپ نے اس کو توحید کی دعوت دی اور کہا کہ تم لوگ مجھے حفاظت میں لے لو تا کہ میں اللہ کا پیغام پہنچانے کا کام کر سکوں۔ اس بوڑھے آدمی نے جواب دیا کہ تمہاری قوم تمہاری حالت کو زیادہ جانتی ہے۔ خدا کی قسم، جو شخص تم کو لے کر یہاں سے اپنے مقام پر جائے گا، وہ تمام موسم حج میں جمع ہونے والوں میں سب سے بری چیز لے کر جائے گا۔ اس لیے تم ہم کو معاف رکھو۔ آپ کا چچا ابو لہب بھی وہاں موجود تھا۔ آپ کے چلے جانے کے بعد اس نے بوڑھے آدمی سے کہا کہ اگر حج کے موسم میں جمع ہونے والے تمام لوگ تمہاری طرح کا جواب دیں تو یہ شخص ( محمد ) جس نے نئے دین کو لے کر اٹھا ہے اس کو وہ چھوڑ دے۔ عبد اللہ بن وابصہ العبسی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری قیام گاہ پر آئے اور ہم لوگ مسجد خیف کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ اونٹنی پر سوار تھے۔ آپ کے پیچھے زید بن حارثہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ہم کو توحید کی دعوت دی ۔ خدا کی قسم ، ہم نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا اور ہم نے یہ کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ ہم لوگوں نے آپ کے بارے میں پہلے ہی سن رکھا تھا کہ آپ حج کے موسم میں قبیلوں کے پاس جاتے ہیں اور ان کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کھڑے ہوئے اپنی بات کہتے رہے اور ہم چپ چاپ سنتے رہے۔ ہمارا ساتھ میسرہ بن مسروق عبسی تھے۔ انہوں نے قبیلہ کے لوگوں سے کہا کہ خدا کی قسم ، اگر ہم اس آدمی کی بات مانیں اور اس کو لے جا کر اپنے قافلہ کے بیچ میں ٹھہرائیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔ اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس شخص کی بات یہاں تک غالب ہوگی کہ وہ ہر جگہ پہنچ جائے گی۔ اس کو سن کر قوم نے میسرہ سے کہا کہ ان باتوں کو چھوڑو۔ تم ایسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page