دعوتی واقعات
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
بات کیوں کہتے ہو جس کو ماننے کے لیے ہم میں سے کوئی شخص تیار نہیں۔ میسرہ کی بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کچھ امید ہوئی۔ آپ نے میسرہ سے کہا کہ تم ہی میری بات مان لو۔ میسرہ نے کہا کہ آپ کی بات بہت اچھی ہے اور اس میں روشنی ہے لیکن میں کیا کروں۔ اگر میں آپ کی بات مانوں تو میری قوم میری مخالف ہو جائے گی۔ اور آپ جانتے ہیں کہ آدمی اپنی قوم کے ساتھ ہی رہ سکتا ہے۔ اگر اپنی قوم وقت پر ساتھ نہ دے تو دشمنوں سے کیا امید کی جاسکتی ہے۔ نبوت کے ابتدائی دنوں کا واقعہ ہے، آپ کے چچا کے لڑکے علی بن ابی طالب آپ کے گھر آئے۔ آپ اور آپ کی بیوی خدیجہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو علی نے پوچھا یہ آپ کیا کر رہے تھے۔ آپ نے جواب دیا، یہ اللہ کا دین ہے جس کو اللہ نے اپنے لیے پسند کیا ہے اور مجھے اس کی تبلیغ کے لیے بھیجا ہے۔ میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے حکم دیا ہے کہ صرف اس کی عبادت کی جائے۔ نوجوان علی نے کہا، یہ ایسی بات ہے جس کو آج سے قبل میں نے نہیں سنا۔ میں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک اپنے باپ ابو طالب سے بیان نہ کرلوں۔ یہ نبوت کا ابتدائی زمانہ تھا۔ حضرت محمد ابھی نہیں چاہتے تھے کہ ابو طالب کو اس کی خبر ہو۔ آپ نے کہا، اے علی! اگر تم اسلام نہیں لاتے تو اس معاملہ کو ابھی پوشیدہ رکھنا۔ اس واقعہ کے چند دن بعد علی نے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ میں اپنی خالہ اروئی بنت عبد المطلب کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گیا۔ وہاں حضرت محمد بھی موجود تھے۔ میں نے آپ کی طرف بغور دیکھنا شروع کیا۔ آپ کی نبوت کا تذکرہ ان دنوں ہو چلا تھا۔ حضرت محمد مجھ کو اس طرح متوجہ دیکھ کر بولے'' عثمان کیا بات ہے۔‘‘ میں نے کہا، مجھے آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader