Urdu book · سیرتِ رسول

دعوتی واقعات

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

پر بڑا تعجب ہے کہ آپ کا ہم لوگوں میں کیا مرتبہ تھا اور اب آپ پر کیا افترا پردازی ہو رہی ہے۔ حضرت محمد نے اس کے جواب میں قرآن کی چند آیتیں پڑھیں۔ اس کے بعد جانے لگے تو میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ ایک روز حضرت محمد ایک پہاڑی کے اوپر عبادت کر رہے تھے۔ ابو جہل نے دیکھا تو ایک پتھر کھینچ مارا جس سے آپ زخمی ہو گئے اور خون بہنے لگا۔ ایک شخص یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس نے جا کر آپ کے چچا حمزہ سے کہا ’’اے حمزہ تمہاری غیرت کو کیا ہوا۔ لوگ تمہارے بھتیجے کو پتھر مار رہے ہیں اور تم ان کی مدد نہیں کرتے۔‘‘ حمزہ ایک پہلوان آدمی تھے اور ابھی ابھی شکار سے واپس ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی۔ اس کو لیے ہوئے سیدھے ابو جہل کے گھر گئے اور کمان اس زور سے اس کے سر پر ماری کہ خون جاری ہو گیا۔ اس کے بعد حمزہ حضرت محمد کے پاس آئے اور کہا ’’بھتیجے! میں نے تمہارا بدلہ لے لیا۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’چچا!! اگر آپ اسلام قبول کر لیتے تو یہ میرے لیے زیادہ خوشی کی بات ہوتی۔‘‘ اس کے بعد حمزہ مسلمان ہو گئے۔ حمزہ کے اسلام لانے کے بعد چند اور آدمی بھی مسلمان ہو گئے اور اب مسلمانوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی۔ قریش دار الندوہ (قبائلی پارلیمنٹ) میں جمع ہوئے تا کہ غور کریں کہ اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا کیا جائے۔ عمر بن الخطاب نے جوش میں آ کر کہا کہ میں محمد کو قتل کر دیتا ہوں اور مکہ کو ان کے شر سے نجات دلا دیتا ہوں۔ عمر بڑے پختہ ارادہ کے آدمی تھے۔ ان کا قد اتنا لمبا تھا کہ ہجرت کے بعد جب مدینہ میں مسجد بنائی گئی اور عمر اس میں داخل ہوئے تو ان کا سر چھت سے ٹکرا گیا۔ قبیلہ بنی مالک بن کنانہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ کو ذوالحجاز کے بازار میں چلتے ہوئے دیکھا۔ آپ کہہ رہے تھے کہ لوگو، لا الہ الا اللہ کہو، تم فلاح پاؤ گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page