Urdu book · سیرتِ رسول

دعوتی واقعات

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

گے ۔ ابولہب آپ پر مٹی پھینکتا اور کہتا کہ اس سے بچو ، ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو تمہارے دین سے گمراہ کر دے ۔ وہ چاہتا ہے کہ تم لوگ اپنے معبودوں کو چھوڑ دو ۔ مگر رسول اللہ اس کی باتوں کی طرف کوئی توجہ نہ فرماتے ۔ ابوسفیان اپنی بیوی ہندہ کو گھوڑے پر بٹھا کر اپنی کھیتی کی طرف روانہ ہوئے ۔ ان کے لڑکے معاویہ آگے تھے ۔ وہ اس وقت نو عمر تھے اور گدھے پر سوار تھے ۔ اتنے میں حضرت محمد سامنے آتے ہوئے نظر پڑے ۔ ابوسفیان نے کہا ، معاویہ تم اتر جاؤ تا کہ محمد اس پر سوار ہو جائیں ۔ معاویہ کہتے ہیں کہ میں اتر گیا اور حضرت محمد میرے گدھے پر سوار ہو کر ہمارے آگے آگے تھوڑی دیر چلے ۔ پھر ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا ، اے سفیان بن حرب اور اے ہند بنت عتبہ ، خدا کی قسم یقینا تمہیں مرنا ہے ۔ اس کے بعد تم دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے ۔ پھر جو نیک ہوگا ، جنت میں داخل ہوگا اور جو برا ہوگا جہنم میں جائے گا ۔ ابوسفیان نے کہا کیا آپ کہہ کر فارغ ہو گئے ۔ آپ نے کہا ہاں اور گدھے سے اتر گئے اور میں سوار ہو گیا ۔ میری ماں ہندہ نے ابوسفیان سے کہا ’’ کیا اسی جادو گر کے لیے تم نے میرے بیٹے کو سواری پر سے اتار دیا تھا ۔‘‘ ابوسفیان نے کہا ، ’’خدا کی قسم وہ جادو گر نہیں ، وہ جھوٹا نہیں ۔‘‘ ابو جہل کی ایک خادمہ تھی جس کا نام سمتیہ تھا ۔ ابو جہل کو معلوم ہوا تو کہا نے مذہب کو چھوڑ دو ۔ سمیہ نے کہا کہ میں محمد کے مذہب کو نہیں چھوڑوں گی ۔ ابو جہل نے ان کو باندھ دیا اور اتنے کوڑے مارے کہ ان کی حالت بگڑ گئی ۔ حضرت ابو بکر جو اب تک چھ غلاموں کو خرید کر آزاد کر چکے تھے ۔ ابو جہل کے پاس پہنچے اور ایک سو دینار کی پیشکش کی ۔ جب وہ راضی نہ ہوا تو کہا کہ ڈیڑھ سو دینار دوں گا ۔ ابو جہل اب بھی راضی نہ ہوا تو آپ نے کہا کہ تم جو بھی قیمت مانگو میں دینے کے لیے تیار ہوں ۔ مگر وہ کسی قیمت پر سمیہ کو فروخت کرنے پر تیار نہ ہوا ۔ سمیہ دایہ گیری کا کام بھی کرتی تھیں ۔ چنانچہ جن قریشی عورتوں کے یہاں بچوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page