سیرتِ رسول
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
پیدائش کے موقع پر انہوں نے مدد کی تھی، سب نے ابوجہل سے سفارش کی کہ وہ سُمّیہ کو نہ مارے۔ مگر ابوجہل نے یہ درخواست بھی قبول نہ کی۔ ابوجہل نے سُمّیہ کو اتنے کوڑے مارے کہ ان کا سارا بدن زخمی ہو گیا۔ حرکت کی تاب نہ رہی مگر وہ یہی کہتی رہیں کہ محمد کے دین کو نہ چھوڑوں گی۔ آخر ابوجہل ایک روز سُمّیہ کو خانہ کعبہ کے پاس لے گیا اور سب کے سامنے کہا کہ تو محمد کے دین وک چھوڑتی ہے یا نہیں۔ سُمّیہ نے انکار کیا۔ ابوجہل نے اپنا نیزہ ان کے سینے پر مارا جو پیٹھ سے پار ہو کر نکل گیا۔ اور اس طرح تاریخِ اسلام میں سُمّیہ کو شہید اول کا درجہ حاصل ہوا۔ قبولِ اسلام مکہ میں دو آدمی ایسے تھے ج و اپنے قائدانہ اوصاف کے اعتبار سے ممتاز تھے۔ ایک عمرو بن ہشام (ابو جہل) اور دوسرے عمر بن الخطاب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ، عمرو بن ہشام یا عمر بن الخطاب کے ذریعہ اسلام کی تائید فرما: اَللّٰهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 11657)۔ اس کے کچھ دنوں بعد عمر بن الخطاب نے اسلام قبول کر لیا۔ عمر بن الخطاب پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت کے بہت مخالف تھے۔ ایک روز انہیں سخت غصہ آیا۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ پیغمبرِ اسلام کو قتل کر ڈالیں۔ وہ تلوار لے کر اپنے گھر سے نکلے۔ راستہ میں نعیم بن عبد اللہ ملے۔ انہوں نے پوچھا کہ عمر، اس دوپہر میں کہاں جا رہے ہو۔ عمر نے کہا کہ محمد کو قتل کرنے کا ارادہ ہے۔ اس صابی نے قریش کے معاملہ میں تفریق ڈال دی ہے۔ اس نے ہماری عقلوں کو بیوقوف بتایا ہے اور ہمارے دین پر عیب لگایا ہے اور ہمارے معبودوں پر سبّ و شتم کیا ہے۔ نعیم نے کہا کہ اے عمر، خدا کی قسم، تمہارے نفس نے تم کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader