قبولِ اسلام
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا تم سمجھتے ہو کہ تم محمد کو قتل کر ڈالو گے اور بنو عبد مناف تم کو چھوڑ دیں گے کہ تم زمین پر چلتے پھرتے رہو۔ پھر انہوں نے کہا کہ محمد سے پہلے تم اپنے گھر کی خبر لو۔ عمر نے پوچھا کہ کون سا گھر۔ نعیم نے کہا کہ تمہاری بہن فاطمہ اور تمہارے بہنوئی سعید بن زید نے محمد کا دین کر لیا ہے۔ پہلے تمہیں ان کی اصلاح کرنا چاہیے۔ یہ سن کر عمر کا غصہ اور بڑھ گیا۔ اسی حال میں وہ اپنی بہن کے گھر پہنچے۔ اس وقت بہن اور بہنوئی دونوں گھر میں تھے اور ایک مسلمان خباب ان کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ عمر کی آہٹ پا کر خباب چھپ گئے۔ عمر نے اندر داخل ہوتے ہی اپنی بہن اور بہنوئی سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم دونوں صابی ہو گئے۔ بہنوئی نے کہا کہ اے عمر، اگر باپ دادا کا دین برحق نہ ہو اور دوسرا دین برحق ہو تو ایسی حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ جواب سن کر عمر کا غصہ تیز ہو گیا، انہوں نے بہنوئی کو مارنا شروع کر دیا۔ بہن چھڑانے کے لیے آئیں تو بہنوئی کو چھوڑ کر بہن کو مارنے لگے یہاں تک کہ ان کے چہرہ سے خون بہنے لگا۔ بہن نے کہا کہ اے خطاب کے بیٹے، تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرو، اب تو ہم اسلام قبول کر چکے ہیں۔ بہن کو خون آلودہ دیکھ کر عمر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور ان کا ضمیر جاگ اٹھا۔ انہوں نے بہن سے کہا کہ جو کتاب تم لوگ پڑھ رہے تھے وہ مجھ کو دکھاؤ۔ اب خباب بھی باہر نکل آئے۔ وہ لوگ اس وقت قرآن میں سے سورہ طٰہٰ پڑھ رہے تھے۔ یہ مجھ کو دکھاؤ۔ اب خباب بھی باہر نکل آئے ۔ وہ لوگ اس وقت قرآن میں سے سورہ طٰہٰ پڑھ رہے تھے۔ یہ سورہ لکھی ہوئی عمر کو دی گئی۔ انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔ ہر ہر آیت ان کے دل میں اترتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ شدید تاثر کے تحت ان کی زبان سے نکلا: مَا أَحْسَنَ هَذَا الْكَلَامَ وَأَكْرَمَهُ (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 345)۔ یعنی، کتنا اچھا اور کتنا اعلیٰ کلام ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ پہاڑی کے اوپر دار ارقم میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader