Urdu book · سیرتِ رسول

قبولِ اسلام

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے۔ عمر کی فرمائش پر خباب ان کو لے کر دار ارقم کی طرف چلے۔ پہنچ کر دروازہ پر دستک دی۔ اندر سے ایک مسلمان نے جھانک کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ عمر تلوار اپنے کندھے پر لٹکائے ہوئے کھڑے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ سے کہا کہ یہ تو عمر ہیں جو تلوار لے کر آئے ہیں۔ حضرت حمزہ نے کہا کہ ان کو اندر آنے دو۔ اگر وہ اچھے ارادہ سے آئے ہیں تو خوشی کی بات ہے اور اگر وہ برے ارادہ سے آئے ہیں تو ہم انہیں کی تلوار سے ان کو قتل کر دیں گے۔ عمر مکان کے اندر داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ان کی طرف آئے۔ آپ نے ان کی چادر پکڑ کر کھینچی اور کہا” اے ابن خطاب ، کیا چیز ہے جو تم کو یہاں لے آئی، خدا کی قسم، ایسا نظر آتا ہے کہ تم باز نہیں آؤ گے یہاں تک کہ خدا تمہارے اوپر کوئی قہر نازل کرے۔“ عمر نے کہا کہ اے محمد، میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاؤں اور اس چیز کا اققرار کروں جو آپ اللہ کے یہاں سے لائے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا۔ اس سے گھر والوں نے جانا کہ عمر نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمر خانہ کعبہ میں گئے۔ وہاں قریش کے لوگ موجود تھے۔ انہوں نے سب کے سامنے اپنے قبولِ اسلام کا اظہار کیا۔ اس پر کچھ لوگ اٹھ کر انہیں مارنے لگے۔ مگر حضرت عمر بہت طاقتور آدمی تھے۔ انہوں نے سب کو ڈھکیل دیا اور بلند آواز سے اسلام کی صداقت کا اعلان کیا۔ حمزہ بن عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ وہ نبوت کے چھٹے سال ایمان لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز صفا پہاڑی کی طرف سے گزر رہے تھے۔ وہاں آپ کی ملاقات ابو جہل ( عمر بن ہشام ) سے ہوئی۔ اس نے آپ سے بہت برے انداز میں کلام کیا۔ آپ کچھ جواب دیے بغیر وہاں سے گزر گئے۔ عبد اللہ بن جدعان کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page