قبولِ اسلام
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک خادمہ یہ پورا واقعہ دیکھ رہی تھی۔ وہ آپ کے چچا حمزہ کے پاس گئی۔ اس نے سے کہا کہ اے ابو عمارہ، کاش تم اس وقت موجود ہوتے جب عمر بن ہشام تمہارے بھتیجے کو گالی دے رہا تھا اور ان کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔ حمزہ ابھی شکار کھیل کر واپس آئے تھے اور لوہے کی کمان ان کے ہاتھ میں تھی۔ وہ کمان لیے ہوئے ابو جہل کی تلاش میں نکلے۔ اس کو کعبہ کے پاس پالیا۔ ابو جہل وہاں ایک جماعت کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ حمزہ نے قریب جا کر ابو جہل کو اپنی کمان سے مارا۔ اس کا سر زخمی ہو گیا اور خون نکل آیا۔ انہوں نے کہا کہ تم محمد کے دشمن بنے ہوئے ہو اور ان کو گالیاں دیتے ہو تو سن لو کہ میرا دین بھی محمد کا دین ہے: دِيْنِي دِيْنُ مُحَمَّدٍ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2926)۔ ابو جہل کے ساتھی اٹھے کہ حمزہ کو پکڑیں اور انہیں ماریں۔ مگر ابو جہل نے اپنے آدمیوں کو منع کر دیا۔ اس نے کہا کہ ابو عمارہ کو چھوڑ دو، کیوں کہ خدا کی قسم میں نے ان کے بھتیجے کو آج بہت زیادہ برا کہہ دیا تھا: دَعُوا أَبَا عُمَارَةَ، فَإِنِّي وَاللَّهِ قَدْ سَبَبْتُ ابْنَ أَخِيهِ سَبًّا قَبِيحًا (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 292)۔ روایات میں آتا ہے کہ حمزہ جب اپنے گھر واپس آئے تو مکہ کے کچھ لوگ ان سے ملے اور ان کو شرم دلائی کہ تم صابی ہو گئے اور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دیا۔ اس سے حمزہ کے اندر شبہ پیدا ہو گیا۔ وہ بے چین ہو گئے۔ انہیں رات بھر نیند نہیں آئی۔ صبح کو حرم کعبہ میں گئے اور وہاں انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ، اگر محمد کا راستہ سچا راستہ ہے تو اس کی تصدیق میرے دل میں ڈال دے۔ ورنہ میں جس حالت میں پڑ گیا ہوں اس سے میرے لیے نکلنے کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔ میرا سینہ حق کے لیے کھول دے اور شک اور تردد کو مجھ سے دور کر دے۔ اسی کے ساتھ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ سے اپنے دل کا حال بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سمجھایا۔ آپ کو جہنم سے ڈرایا اور جنت کی بشارت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader