سیرتِ رسول
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
دی ۔ اس کے بعد اللہ نے ان کے دل میں یقین ڈال دیا۔ اسلام کی صداقت پر ان کو پورا اطمینان ہو گیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صادق ہیں۔ اے میرے بھتیجے، اپنے دین کا اعلان کرو۔ خدا کی قسم، وہ سب کچھ جس پر آسمان سایہ کیے ہوئے ہے، اگر مجھے دیا جائے تب بھی میں تمہارے دین کو نہیں چھوڑوں گا۔ مکہ میں اسی طرح ایک ایک کر کے لوگ اسلام قبول کرتے رہے۔ کوئی شخص پہلے ہی سے بتوں کی عبادت کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے توحید کی بات سنی تو وہ اس کو اپنے دل کی آواز محسوس ہوئی۔ وہ فوراً آپ کا مومن بن گیا۔ کسی نے شام و فلسطین کے سفروں میں عیسائی عالموں سے سنا تھا کہ جزیرہ عرب میں ایک نبی پیدا ہونے والے ہیں۔ اس نے جب آپ کی شخصیت اور آپ کے کلام کو جانا تو اس نے سمجھ لیا کہ یہی وہ نبی ہیں ۔ چنانچہ اس نے آپ کے ہاتھ پر ایمان کی بیعت کر لی۔ کسی نے خواب دیکھا کہ آپ اس کو آگ کے گڑھے سے کھینچ کر نکال رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ آپ سے ملا۔ اس پر آپ کی صداقت کھلی اور اس نے ایمان قبول کر لیا۔ ابتدائی دور میں میں یہی صورت جاری رہی۔ مختلف اسباب کے تحت لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوتے۔ تحقیق کے بعد جب آدمی کا دل گواہی دیتا کہ واقعی آپ خدا کے بھیجے ہوئے رسول ہیں تو وہ آپ پر ایمان لا کر آپ کا ساتھی بن جاتا۔ اس طرح مکہ اور اطرافِ مکہ کے لوگ انفرادی طور پر آپ کی نبوت کو مان کر آپ کے گروہ میں شامل ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کی ایک قابلِ لحاظ جماعت بن گئی۔ تبلیغ عام دھیرے دھیرے بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں اسلام میں داخل ہو گئیں ۔ یہاں تک کہ مکہ میں اسلام پھیل گیا اور ہر طرف اس کا چرچا ہونے لگا۔ اب اللہ تعالی نے اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader