Urdu book · سیرتِ رسول

تبلیغ عام

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول کو حکم دیا کہ اسلام کی تعلیم کو کھلّم کھلا بیان کریں۔ ابنِ اسحاق کے مطابق، تین سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انفرادی طور پر خاموشی کے ساتھ تبلیغ کرتے رہے۔ تین سال بعد سورہ مدثر میں یہ حکم دیا گیا کہ توحید کا عمومی اعلان کرو اور کسی کمی کے بغیر اس کو لوگوں کے سامنے بیان کردو۔ اب مکہ کے مشرکین کی طرف سے سخت مخالفت ہونے لگی۔ اس وقت رسول اللہ کو ٹکڑاؤ کے بجائے اعراض (الحجر، 15:94) کا حکم دیا گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اس زمانہ میں ایسا کرتے کہ جب نماز کا وقت آتا تو آبادی کے باہر گھاٹیوں میں چلے جاتے اور لوگوں سے چھپ کر نماز پڑھتے۔ ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی قوم کے سامنے اسلام کا اظہار کیا اور کھلّم کھلا اس کا اعلان فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا تو آپ کی قوم نے ابتدا میں آپ سے دوری اختیار نہ کی۔ یہاں تک کہ آپ ان کے بتوں کا ذکر کرنے لگے اور ان پر تنقید کی۔ جب آپ نے ایسا کیا تو انہوں نے آپ کے معاملہ کو اہمیت دی اور آپ سے اجنبیت پر تنے لگے۔ وہ آپ کی مخالفت اور دشمنی پر متحد ہوگئے۔ سوا اُن لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ بچالیا۔ ایسے لوگ تھوڑے تھے اور چھپے ہوئے تھے۔ آپ کے چچا ابو طالب اگرچہ آپ پر ایمان نہیں لائے تھے مگر اس موقع پر انہوں نے آپ کا پورا ساتھ دیا۔ وہ آپ کی حفاظت اور امداد کے لیے سینہ سپر ہوگئے۔ قریش نے جب دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے معبودوں پر تنقید کرنے سے باز نہیں آتے جو کہ قریش کو سخت ناپسند تھا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ابو طالب آپ کی سرپرستی کر رہے ہیں اور حفاظت پر کمر بستہ ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page