Urdu book · سیرتِ رسول

تبلیغ عام

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

علیہ وسلم کو کسی حال میں بھی قریش کے حوالے کرنے پر تیار نہیں، تو قریش کے بڑے بڑے سردار ابو طالب کے پاس جمع ہوگئے۔ ان کے نام ہیں_ عتبہ، شیبہ، ابوسفیان، ابو البختری الاسود، ابو جہل، الولید، العاص، وغیرہ۔ ان لوگوں نے ابو طالب سے کہا کہ آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا کہا، ہمارے دین پر عیب لگایا، ہم میں سے عقل مندوں کو بیوقوف بتایا اور ہمارے بڑوں کو گمراہ ٹھہرایا۔ اب آپ یا تو ان کو ایسی باتوں سے روک دیں یا ہمارے اور ان کے درمیان دخل نہ دیں، کیوں کہ آپ بھی اسی دین پر ہیں جس پر ہم لوگ ہیں۔ ہم خود ان کا بندوبست کرلیں گے۔ ابو طالب نے نرمی کے ساتھ ان کی باتیں سنیں اور ان کو حکمت کے ساتھ واپس کر دیا۔ چنانچہ وہ لوگ اس وقت لوٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طریقہ پر قائم رہے اور اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو بلاتے رہے۔ اس کے نتیجہ میں آپ کے اور مشرکوں کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوگئے۔ قریش کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا رہتا، وہ ایک دوسرے کو آپ کے خلاف ابھارتے۔ قریش کے سردار دوبارہ ابو طالب کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابو طالب، آپ ہم میں عمر اور نسب کے لحاظ سے خاص درجہ رکھتے ہیں۔ ہم نے آپ سے کہا تھا کہ اپنے بھتیجے کو ہم سے روکیں۔ مگر آپ نے ان کو نہیں روکا۔ خدا کی قسم، ہم اس حالت پر صبر نہیں کر سکتے کہ ہمارے بزرگوں کو گالیاں دی جائیں، ہمارے عقل مندوں کو بے وقوف بتایا جائے اور ہمارے معبودوں پر عیب لگایا جائے۔ اب یا تو ہم ان کو اس سے روک دیں گے یا ان سے جنگ کریں گے۔ پھر آپ اس میں دخل نہیں دیں گے، یہاں تک کہ دونوں گروہوں میں سے کوئی ایک ہلاک ہو جائے۔ اس کے بعد وہ لوٹ گئے۔ ابو طالب پر اپنی قوم کی جدائی اور اس کی دشمنی بہت شاق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page