تبلیغ عام
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
گزری۔ ان کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالہ کردیں اور ان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیں۔ قریش نے جب ابو طالب سے یہ بات کہی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور آپ سے کہا کہ اے بھتیجے، تمہاری قوم میرے پاس آئی اور مجھ سے ایسا اور ایسا کہا۔ پس تم مجھ پر رحم کرو اور خود اپنے آپ پر بھی۔ اور میرے اوپر اتنا بوجھ نہ ڈالو جس کی برداشت میرے اندر نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گمان ہوا کہ آپ کے چچا کی رائے بدل گئی ہے، اب وہ آپ کی حمایت کرنا چھوڑ دیں گے اور آپ کو قریش کے حوالے کر دیں گے۔ آپ نے ابو طالب سے کہا کہ اے میرے چچا، خدا کی قسم، اگر وہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں اور چاہیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں ، تب بھی میں اس کو نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ اللہ اسے غالب کر دے یا میں اسی میں ہلاک ہو جاؤں۔ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور آپ رو پڑے۔ اس کے بعد آپ اٹھ کر وہاں سے جانے لگے۔ جب آپ واپس ہوئے تو ابو طالب نے آپ کو پکارا اور کہا کہ بھتیجے یہاں آؤ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے۔ ابو طالب نے کہا کہ اے میرے بھتیجے، جاؤ اور جو کہنا چاہتے ہو کہو۔ خدا کی قسم، میں کسی بھی قیمت پر ہرگز تمہیں ان کے حوالے نہیں کروں گا۔ قریش نے سمجھ لیا کہ ابو طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ آپ علیحدگی اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس معاملہ میں وہ پوری قوم کی مخالفت کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ عمارہ بن الولید بن المغیرہ کو لے کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہا کہ اے ابو طالب، یہ عمارہ بن الولید بن المغیرہ ہے جو قریش میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ خوبصورت آدمی ہے۔ اس کو اپنے پاس رکھئے اور اس کو اپنا بیٹا بنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader