تبلیغ عام
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
کے دین کی اور آپ کے آباء کے دین کی مخالفت کی اور آپ کی قوم میں تفریق پیدا کی اور ان کے عقل مندوں کو بے وقوف بتایا ، تا کہ ہم اس کو قتل کر دیں ۔ آپ کو ہم ایک شخص کے بدلے ایک شخص دے رہے ہیں ۔ ابو طالب نے کہا کہ خدا کی قسم تم مجھ سے کتنا برا معاملہ کر رہے ہو۔ کیا تم مجھ کو اپنا بیٹا دے رہے ہو کہ میں اس کو تمہاری خاطر کھلاؤں، اور تم کو میں اپنا بیٹا دے دوں کہ تم اس کو قتل کر ڈالو۔ خدا کی قسم ، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ مطعم بن عدی نے کہا کہ اے ابو طالب ، خدا کی قسم، تمہاری قوم نے تم سے انصاف کی بات کہی ہے اور جس بات کو تم نا پسند کرتے ہو اس سے بچنے کی پوری کوشش کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ ان کی کوئی بات ماننا نہیں چاہتے ۔ ابو طالب نے مطعم سے کہا کہ خدا کی قسم ، انہوں نے مجھ سے انصاف نہیں کیا ، مگر تم نے پختہ کر لیا ہے کہ میرے خلاف اپنی قوم کی حمایت کرو۔ پھر جاؤ، جو تمہارے جی میں آئے کرو۔ قریش کے قبائل میں سے کچھ افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ قریش کے سرداروں نے ان اصحاب رسول کے خلاف لوگوں کو ابھارا تو ہر قبیلہ اپنے اندر کے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ وہ انہیں سخت تکلیف دیتے اور ان کو ان کے دین سے پھیرنے کی کوشش کرتے ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو آپ کے چچا ابو طالب کی وجہ سے محفوظ رکھا۔ جب ابو طالب نے قریش کی یہ کارروائیاں بنو ہاشم اور بنو مطلب میں دیکھیں تو وہ اٹھ گئے اور آپ کی حمایت کے لیے ان سب کو پکارا جس پر وہ خود قائم تھے۔ اس کے بعد تمام بنو ہاشم آپ کی حمایت پر جم گئے۔ انہوں نے ابو طالب کی پکار پر لبیک کہا۔ صرف ابو لہب نے اس معاملہ میں ساتھ نہیں دیا۔ اس کے بعد قریش کے کچھ لوگ ولید بن المغیرہ کے پاس جمع ہوئے۔ وہ عمر کے لحاظ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader