تبلیغ عام
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
سے ان میں سب سے زیادہ بزرگ آدمی تھا۔ اس وقت حج کا زمانہ قریب تھا۔ ولید نے ان سے کہا کہ اے گروہ قریش، حج کا زمانہ قریب آ چکا ہے۔ جلد ہی عرب کے لوگ تمہارے پاس آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے صاحب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کا حال سن لیا ہے۔ تم لوگ اس معاملہ میں کوئی ایک رائے قائم کرلو۔ ایسا نہ کہ تم مختلف باتیں کہو اور اس طرح ایک دوسرے کی تردید کرنے لگو۔ انہوں نے کہا کہ اے ابو عبد شمس، تم ہی کچھ کہو اور ہمارے لیے ایک ایسی رائے دو کہ ہم بھی وہی کہیں ۔ ولید نے کہا کہ نہیں، تم کہو میں سن رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ وہ کاہن ہے۔ ولید نے کہا کہ نہیں، خدا کی قسم، وہ کاہن نہیں۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کا گنگنانا یا کاہنوں کی قافیہ آرائی نہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم اس کو دیوانہ بتائیں گے۔ ولید نے کہا کہ نہیں، وہ دیوانہ بھی نہیں۔ ہم نے دیوانوں کو دیکھا ہے اور ان کو جانتے ہیں۔ اس کی حالت اختناق کی نہیں، نہ اختلاج کی سی ہے اور نہ وہ شیطانی وسوسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر ہم اس کو شاعر کہیں گے ۔ ولید نے کہا کہ وہ شاعر بھی نہیں ہم شعر کی تمام قسموں کو جانتے ہیں۔ اس کا کلام شاعرانہ کلام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر ہم اس کو جادوگر کہیں گے۔ ولید نے کہا کہ وہ جادوگر بھی نہیں۔ ہم نے جادوگروں کو اور ان کے جادو کو دیکھا ہے۔ اس کے یہاں نہ جادوگروں جیسا پھونکنا ہے اور نہ ان کی جیسی گرہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ اے ابو عبد شمس، پھر ہم کیا کہیں۔ ولید نے کہا کہ خدا کی قسم، اس کے کلام میں ایک مٹھاس ہے۔ اس کی جڑ بہت شاخوں والی ہے اور اس کی شاخیں پھلوں والی ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہوگے، اس کا بے بنیاد ہونا ظاہر ہو جائے گا۔ اس کے بارے میں قریب تر بات یہ ہے کہ تم کہو کہ وہ جادوگر ہے۔ وہ ایک ساحرانہ کلام لے کر آیا ہے جس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader