Urdu book · سیرتِ رسول

تبلیغ عام

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

ذریعہ سے وہ باپ اور بیٹے، بھائی اور بھائی، میاں اور بیوی اور آدمی اور اس کے خاندان کے درمیان پھوٹ ڈالتا ہے۔ سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا اور وہ وہاں سے چلے گئے۔ پھر جب حج کا موسم آیا اور لوگ ادھر ادھر سے آنے لگے تو یہ لوگ ان کے راستوں پر بیٹھ جاتے۔ جو شخص ان کے پاس سے گزرتا، اس کو آپ سے ڈراتے اور اس سے آپ کا حال کہتے۔ حج کے بعد جب لوگ اپنی بستیوں کو واپس ہوئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی خبریں لے کر واپس ہوئے۔ چنانچہ آپ کی شہرت عرب کی تمام بستیوں میں پھیل گئی۔ جس دین کی بابت ابتدا میں صرف مکہ کے کچھ لوگ جانتے تھے، اس کو عرب کے تمام قبیلوں نے جان لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دین توحید کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کیا تو ابتداء میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنے جاننے والے لوگوں اور قریبی رشتہ داروں سے مل کر کہتے کہ مجھ کو اللہ نے اپنا رسول بنایا ہے، میں تم کو دعوت دیتا ہوں کہ تم میرے اوپر ایمان لا کر خدا کی جنت کے مستحق بنو۔ کچھ افراد نے آپ کی بات کو مانا اور کچھ افراد نے اس کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ اس کے بعد آپ نے مزید افراد سے ملنا شروع کیا۔ جب بھی آپ کو معلوم ہوتا کہ چند افراد ایک مقام پر جمع ہیں یا باہر سے کچھ لوگ زیارت کعبہ کے لیے مکہ آئے ہیں تو آپ ان کے پاس جاتے اور ان سے مل کر انہیں اپنی دعوت پیش کرتے۔ ایک بار آپ ابوسفیان اور ہندہ سے ملے۔ آپ نے ان سے کہا کہ خدا کی قسم، تم مرو گے ۔ اس کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ پھر اچھے عمل والا آدمی جنت میں داخل کیا جائے گا اور برے عمل والا آدمی جہنم میں۔ مگر وہ لوگ اس وقت آپ پر ایمان نہ لائے۔ اس کے بعد آپ بڑے اجتماعات میں جانے لگے۔ جہاں آپ کو معلوم ہوتا کہ کچھ لوگ جمع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page