Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ وہاں آپ جاتے اور لوگوں کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرتے اور ان کو قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناتے۔ مثلاً احرم کا اجتماع، موسمی میلے، اور بازار، وغیرہ۔ کبھی ان کو اس طرح خطاب کرتے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، تُفْلِحُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 16022)۔ یعنی۔ اے لوگو، کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے۔ مگر بہت کم ایسا ہوا کہ کوئی شخص آپ کی دعوت کو سنجیدگی کے ساتھ سنے اور اس کو قبول کرے ۔ آخری کوشش اس وقت مکہ کے مسلمانوں میں صرف ایک شخص تھا جو بلا خوف وخطر اپنے گھر سے نکلتا اور وہ خود پیغمبر اسلام تھے۔ حسب معمول ایک روز کعبہ میں داخل ہو کر آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو جہل اونٹ کی ایک اوجھڑی ہاتھ میں لیے ہوئے آیا جو کہ خون اور غلاظت سے آلودہ تھی۔ عرب میں مجرموں کو چند طریقوں سے پھانسی دی جاتی تھی۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ اونٹ کی اوجھڑی جو خون یا پانی سے بھری ہوتی تھی، مجرم کے سر پر اس طرح ڈال دیتے کہ اس کا سر اور چہرہ اوجھڑی کے اندر چلا جاتا اور نچلا حصہ جو تھیلی کی طرح گردن کو گھیرے رہتا تھا، باندھ دیتے ۔ چونکہ مجرم کا منہ اور ناک اوجھڑی کے اندر بند ہو جاتا تھا، اس لیے نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ سانس نہ لے سکنے کے باعث مر جاتا۔ اس روز ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے یہی حرکت آپ کے ساتھ کی۔ وہ آہستہ سے کعبہ میں داخل ہوئے اور اونٹ کی اوجھڑی کو حضرت محمد کے اوپر اس طرح ڈال دیا کہ آپ کا سر اور چہرہ اس کے اندر چلا گیا۔ اس کے بعد ابو جہل نے اس کا آخری حصہ ایک تھیلی کے سرے کی طرح آپ کی گردن کے چاروں طرف باندھ دیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مصیبت سے اپنے آپ کو چھڑانے کی ناکام کوشش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page