آخری کوشش
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے دیکھ کر ایک قریشی عورت کو رحم آیا۔ وہ حضرت محمد کے ہاتھ پاؤں مارنے کا منظر نہ دیکھ سکی۔ مگر وہ خود ان کی مدد نہ کر سکتی تھی کیوں کہ اس کو ابو جہل کا خطرہ تھا۔ وہ تیزی سے چل کر حضرت محمد کے مکان پر آئی اور آپ کی لڑکی حضرت رقیہ سے کہا کہ اپنے باپ کو بچانے کے لیے دوڑو، اگر دیر کی تو انہیں زندہ نہ پاؤ گے۔ حضرت رقیہ روتی ہوئی خانہ کعبہ پہنچیں ۔ ابو جہل اور دوسرے لوگوں نے جیسے ہی حضرت رقیہ کو دیکھا، پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت رقیہ نے اوجھڑی کو کھولا اور حضرت محمد کے سر اور چہرہ کو نکال کر اپنے دامن سے صاف کیا۔ حضرت محمد تقریبا ایک گھنٹہ حرکت نہ کر سکے اس کے بعد اپنی لڑکی کی رقیہ کے سہارے آہستہ آہستہ گھر آئے۔ اگلے دن سے حضرت محمد پھر اسی خانہ کعبہ جانے لگے، گویا کوئی واقعہ ہی پیش نہ آیا تھا۔ جب قریش نے دیکھا تو انہوں نے دوسری تدبیر کی۔ ایک روز عقبہ نامی ایک شخص ہاتھ میں چادر لیے ہوئے ننگے پاؤں کعبہ میں داخل ہوا۔ وہ آہستہ آہستہ آپ کے پاس پہنچا اور عین اس وقت جب کہ آپ سجدہ میں تھے، اپنی چادر یکبارگی آپ کے سر پر ڈال دی اور ہاتھ سے اس طرح زور زور سے مارنا شروع کیا کہ پیغمبر اسلام کے ناک اور منہ خون آلود ہو گئے۔ کچھ دیر کی کشمکش کے بعد آپ نے اپنے کو عقبہ کے چنگل سے چھڑالیا اور دوبارہ خون آلود شکل میں گھر واپس آئے۔ کیا وجہ ہے کہ اتنی سخت عداوت کے باوجود مکہ والوں نے سیدھے سیدھے آپ کو تلوار سے قتل کرنے کی کوشش نہ کی۔ اس کی وجہ اس وقت کا قبائلی نظام تھا۔ قریش والے دس قبیلہ میں تقسیم تھے جن میں سے ایک قبیلہ ہاشم تھا۔ حضرت محمد اسی قبیلہ کے فرد تھے۔ اگر دوسرے نو قبیلے حضرت محمد کو قتل کرتے تو قبائلی رسم کے مطابق، یا تو آپ کے خون کی قیمت قبیلہ ہاشم کو ادا کرتے یا ان سے جنگ کے لیے تیار ہو جاتے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں حضرت محمد کو قتل کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader