آخری کوشش
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
آخر مشورہ سے طے پایا کہ سردارانِ قریش حضرت محمد کے چچا ابوطالب کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ وہ حضرت محمد کو اپنے قبیلہ سے خارج کر دیں اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کسی دوسرے قبیلہ کے ایک یا دو نوجوان اپنے قبیلہ میں داخل کر لیں۔ ابوطالب اگر حضرت محمد کو قبیلہ سے خارج کرنے کا اعلان کر دیتے تو قبائلی قانون کے مطابق آپ کا خون مباح ہو جاتا۔ قریش کے نمائندے ابوطالب کے پاس گئے اور انہیں اپنے قبیلہ کی بات پہنچائی۔ ابوطالب نے کہا’’ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں تم سے کہتا ہوں کہ میں مسلمان نہ ہوں گا۔ میں اپنے باپ دادا کے دین پر مروں گا۔ مگر اپنے بھتیجے کو قبیلہ سے خارج نہیں کر سکتا کہ تم اسے قتل کر ڈالو۔ البتہ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں ان سے بات کروں گا۔ ممکن ہے کہ میں انہیں نئے مذہب کو چھوڑنے پر آمادہ کر سکوں۔ تم لوگ کل میرے پاس آؤ، ابو طالب نے جب حضرت محمد سے گفتگو کی تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ’’اے چچا، میں نے جس دن سے یہ کام شروع کیا ہے، اسی دن سے میرا بھروسہ خدا کے سوا کسی اور پر نہیں ہے۔ اگر آپ قبیلہ سے خارج کرنا چاہیں تو کر دیجیئے۔‘‘ ابوطالب نے اس کے بعد قریش والوں سے کہہ دیا کہ ’’میں محمد صلی اللہ کو قبیلہ سے خارج نہیں کروں گا۔ لیکن جب تک زندہ ہوں ان کا مذہب بھی قبول نہ کروں گا۔‘‘ قریش والوں نے جب دیکھا کہ ابوطالب کے یہاں ان کی کوشش کامیاب نہ ہوئی تو انہوں نے ارادہ کیا کہ براہِ راست حضرت محمد سے گفتگو کریں۔ مکہ کے سربرآوردہ قبیلہ قریش نے ایک روز جمع ہو کر کہا کہ ایک ایسے آدمی کو تلاش کرو جو تم سب میں بڑا جادوگر، بڑا کاہن اور بڑا شاعر ہو، وہ محمد کے پاس جائے جس نے ہماری جماعت میں اختلاف پیدا کر رکھا ہے۔ سب نے کہا کہ اس کام کے لیے عتبہ بن ربیعہ سے بہتر کوئی آدمی نہیں۔ اس فیصلہ کے مطابق ، عتبہ نے آپ کے پاس آ کر کہا: اے محمد، تم بہتر ہو یا تمہارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader