Urdu book · سیرتِ رسول

آخری کوشش

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

والد عبداللہ ۔ آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر پوچھا تم بہتر ہو یا عبد المطلب ۔ آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے بعد عقبہ نے کہا اگر تم یہ مانتے ہو کہ یہ لوگ بہتر تھے تو ان لوگوں نے انہی معبودوں کی پرستش کی جن کو تم برا کہتے ہو۔ اگر تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے بہتر ہو تو بیان کرو کہ ہم بھی تمہاری بات سنیں ۔ خدا کی قسم ہم نے کبھی کسی بھیڑ کے بچہ کو اپنے ریؤڈ کے لیے اپنی قوم پر تم سے زیادہ منحوس نہیں پایا۔ تم نے ہماری جماعت میں پھوٹ ڈال دی، ہمارے دین کو بدنام کیا، ہم کو عرب میں یہاں تک رسوا کیا کہ عام شہرت ہے کہ قریش میں ایک جادو گر پیدا ہوا ہے۔ بخدا ہم لوگ حاملہ جیسی آواز کے منتظر ہیں کہ اس کے سنتے ہی ہمارا بعض بعض پر تلوار چھوڑ دے اور ہم آپس میں کٹ مریں‘‘۔ پھر عقبہ نے کہا’’اے شخص ، اگر تو حاجت مند ہے تو ہم تیرے لیے اتنا ڈھیر لگا دیں کہ تو قریش میں سب سے زیادہ دولت مند ہو جائے۔ اگر یہ کوئی آسیب ہے تو ہم اس کے علاج کے لیے اپنا خزانہ تک خرچ کر دیں گے ۔ اگر شادی کی خواہش ہے تو قریش کی جن عورتوں کو چاہو، ان سے تمہارا نکاح کر دیں گے۔ اور اگر تمہارا ارادہ بادشاہت کا ہے تو ہم تم کو بادشاہ بنا دیں گے‘‘۔ آپ خاموشی سے اس تقریر کو سنتے رہے ، آخر میں بولے تم کہہ چکے، عقبہ نے کہا ہاں۔ پھر آپ نے قرآن کی 41 ویں سورہ ابتدا سے پڑھنا شروع کیا۔ آپ تیرہویں آیت تک پہنچے تھے کہ عقبہ نے آپ کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا بس بس ۔ پھر پوچھا: کیا اس کے سوا اور کچھ کہنا ہے، آپ نے کہا نہیں۔ اس کے بعد عقبہ واپس ہو کر اپنے گھر بیٹھ رہا اور لوگوں کے پاس نہ گیا۔ ابو جہل کو معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ اے برادران قریش، خدا کی قسم، میرا عقبہ کے بارے میں اس کے سوا اور کوئی خیال نہیں کہ وہ محمد کی طرف مائل ہو گیا اور اس کو محمد کا کھانا پسند آ گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page