Urdu book · سیرتِ رسول

آخری کوشش

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد ابو جہل اور اس کے ساتھی عقبہ کے یہاں گئے۔ ابو جہل نے عقبہ سے کہا ”اے عقبہ، خدا کی قسم، ہم کو اس لیے آنا پڑا کہ تم محمد کی طرف مائل ہو گئے۔ اگر تمہیں کوئی حاجت ہے تو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیں کہ پھر تمہیں محمد کے کھانے کی ضرورت نہ رہ جائے۔ عقبہ یہ سن کر بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم لوگوں کو خوب پتہ ہے کہ میں قریش میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔ مگر خدا کی قسم، محمد نے مجھ کو ایسا جواب دیا کہ وہ نہ جادو ہے، نہ شعر ہے، نہ کہانت ہے۔ اس نے مجھ سے وہ کلام کیا کہ خدا کی قسم، میرے کانوں نے اس جیسا کلام نہ سنا تھا۔ میں حیران رہ گیا کہ کیا جواب دوں۔ تم کو خوب پتہ ہے کہ محمد جھوٹ نہیں بولتا۔ محمد کو ڈر ہے کہ تم پر آسمان سے کوئی عذاب نہ اتر آئے۔ اس کے بعد قریش نے ایک روز آپ کو بلایا اور آپ کے سامنے کچھ باتیں رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ لوگوں میں کوئی بھی نہیں جو ہم سے زیادہ تنگ شہر والا ہو۔ ہمارے یہاں پانی نہیں۔ ہم سے زیادہ تنگ زندگی والا کوئی نہیں۔ اس لیے جس رب نے آپ کو بھیجا ہے، اس سے دعا کیجئے کہ وہ ان پہاڑوں کو ہم سے ہٹا دے جو ہماری زندگی کو تنگ کیے ہوئے ہیں۔ اور ہمارے شہروں کو کشادہ کر دے۔ اور ان میں ہمارے لیے شام وعراق جیسی ندیاں جاری کر دے۔ اسی طرح ہمارے خاندانی بزرگوں میں سے جو گزر چکے ہیں، ان کو ہمارے لیے زندہ کر دے۔ ان زندہ ہونے والوں میں قصي بن کلاب ہوں، کیوں کہ وہ ہمارے بڑے اور سچے تھے۔ پھر ہم ان سے پوچھیں کہ جو کچھ تم کہتے ہو، وہ حق ہے یا باطل۔ اگر انہوں نے تمہاری تصدیق کی، اور تم نے وہ چیزیں کر دیں جن کا ہم نے تم سے سوال کیا ہے، تو ہم تمہاری تصدیق کریں گے اور اس کے سبب سے تمہارا وہ درجہ بھی مان لیں گے جو خدا کے یہاں تمہارے لیے ہے۔ اور ہم یہ بھی جان لیں گے کہ تم واقعی خدا کے رسول ہو جیسا کہ تم کہتے ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page