آخری کوشش
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں ان چیزوں کے ساتھ تمہاری طرف نہیں بھیجا گیا ہوں۔ میں تو وہی چیز لے کر تمہارے پاس آیا ہوں جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، اور اللہ نے جس چیز کے ساتھ مجھے بھیجا ہے، وہ میں نے تمہاری طرف پہنچا دی۔ اگر تم اس کو قبول کرو تو دنیا اور آخرت میں تمہارا حصہ ہے۔ اور اگر اسے رد کرو تو میں اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا، یہاں تک کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے۔ قریش کے لوگوں نے کہا کہ اگر تم ہمارے لیے ایسا کرنے پر تیار نہیں ہو تو اپنی ذات ہی کے لیے کرو۔ تم اپنے رب سے سوال کرو کہ وہ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ بھیج دے جو ان باتوں کی تصدیق کرے جو تم کہتے ہو۔ اور اپنے رب سے کہو کہ وہ باغ اور محل اور سونے چاندی کے خزانے تمہیں دے دے، اور اس طرح تم کو ان کاموں سے بے نیاز کر دے جن میں ہم تم کو مشغول دیکھتے ہیں۔ کیوں کہ تم بھی ایک طرح بازاروں میں جاتے ہو جس طرح ہم جاتے ہیں۔ تم بھی اسی طرح معاش کی تلاش کرتے ہو جس طرح ہم کرتے ہیں۔ ایسا ہو جائے تو ہم اس درجہ اور فضیلت کو جان لیں گے جو تمہارے رب کے یہاں تمہارا ہے، اور یہ کہ تم رسول ہو جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں۔ اور نہ میں ایسا شخص ہوں جو اپنے رب سے ان چیزوں کے لیے سوال کرے۔ اللہ نے تو مجھ کو خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اگر تم اس چیز کو قبول کرو جس کو لے کر میں آیا ہوں تو وہ دنیا و آخرت میں تمہارا حصہ ہے۔ اور اگر تم اس کو میری طرف لوٹا دو تو میں اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا، یہاں تک کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے۔ قریش نے کہا کہ پھر تم ایسا کرو کہ ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔ جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ اگر تمہارا رب چاہے تو وہ ایسا بھی کر دے۔ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader