Urdu book · سیرتِ رسول

آخری کوشش

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

کے جب تک تم ایسا نہ کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ اللہ کے اوپر ہے، اگر اس نے تمہارے ساتھ ایسا کرنا چاہا تو وہ ایسا ہی کرے گا۔ قریش نے کہا کہ اے محمد، کیا تمہارے رب کو معلوم نہ تھا کہ ہم تمہارے ساتھ بیٹھیں گے اور تم سے وہ سوال کریں گے جو ہم نے کیا ہے۔ اور تم سے وہ چیزیں طلب کریں گے جو ہم نے تم سے طلب کیا ہے۔ پھر وہ پہل کرتا اور تم کو ان سوالوں کا جواب دے دیتا جو ہم نے کیے ہیں۔ اور وہ تم کو بتا دیتا کہ وہ اس معاملہ میں ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ پھر قریش نے کہا کہ ہم تو تمہاری باتیں ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور ہم کو معلوم ہوا ہے کہ ان باتوں کی تعلیم تم کو یمامہ کا ایک شخص دیا کرتا ہے جس کا نام رحمن ہے۔ اور ہم تو خدا کی قسم، کبھی بھی رحمن پر ایمان نہ لائیں گے۔ اے محمد، ہم نے اپنا عذر تمہارے سامنے بیان کر دیا ہے۔ خدا کی قسم، ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے، یہاں تک کہ یا تو تم ہم کو ہلاک کر دو یا ہم تم کو ہلاک کر دیں۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں، اور وہ خدا کی لڑکیاں ہیں، اس لیے ہم تم کو نہیں مانیں گے یہاں تک کہ تم اللہ اور فرشتوں کو سامنے نہ لاؤ۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تو آپ ان کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ کے ساتھ عبداللہ بن ابی امیہ بھی اٹھ کھڑا ہوا، وہ آپ کی پھو پھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا لڑکا تھا۔ اس نے کہا کہ اے محمد، قوم نے آپ کے سامنے پیش کیا جو کچھ پیش کیا، مگر آپ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ پھر انہوں نے اپنے لیے کچھ باتیں طلب کیں تا کہ اس کے ذریعہ سے وہ آپ کا وہ درجہ جانیں جو آپ کے دعویٰ کے مطابق اللہ کے یہاں آپ کا ہے، اس طرح آپ کو پہچان کرو وہ آپ کی تصدیق کریں اور آپ کی پیروی کریں۔ مگر آپ نے اس کو نہیں کیا۔ پھر انہوں نے آپ سے کہا کہ آپ خود اپنے فائدہ کے لیے وہ چیزیں اپنے رب سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page