Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل کریں جس سے لوگ اللہ کے یہاں آپ کی فضیلت کو اور آپ کے درجہ کو جانیں، مگر آپ نے ایسا بھی نہیں کیا۔ پھر انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ ان پر اس عذاب کا کوئی حصہ اتاریں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں مگر آپ وہ بھی نہ کر سکے۔ عبداللہ بن امیہ نے کہا کہ خدا کی قسم، میں تو کبھی آپ پر ایمان لانے والا نہیں، یہاں تک کہ آپ ایک ایسی سیڑھی لائیں جو آسمان تک جاتی ہو۔ پھر آپ اس پر چڑھیں اور میں آپ کو چڑھتے ہوئے دیکھوں۔ یہاں تک کہ آپ آسمان پر پہنچ جائیں۔ پھر آپ آسمان سے اپنے لیے ایک نوشتہ لائیں۔ اور آپ کے ساتھ چار فرشتے ہوں جو گواہی دیں کہ آپ وہی ہیں جو آپ اپنے بارے میں کہتے ہیں۔ خدا کی قسم، اگر آپ نے ایسا کر دیا تب بھی میں نہیں سمجھتا کہ میں آپ کی تصدیق کروں گا: وَاَیمُ اللهِ، لَو فََعَلْتُ ذَلِكَ مَا ظَنَنْتُ أَنِّي اُصَدِّقُكَ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 298)۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کی طرف لوٹے، اور آپ غم اور افسوس کی حالت میں تھے۔ کیوں کہ آپ اپنی قوم کے پاس جو امید لے کر گئے تھے، وہ امید پوری نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کے بعد وہ لوگ اور بھی زیادہ آپ سے دور ہو گئے۔ ہجرت حبشہ مکہ کے سرداروں کی مخالفت کے باوجود مکہ میں اسلام پھیل رہا تھا۔ روزانہ یہ خبر مشہور ہوتی کہ آج فلاں شخص نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ دیکھ کر مکہ کے سردار بہت برہم ہو گئے۔ انہوں نے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانا شروع کر دیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم مکہ چھوڑ کر کسی دوسرے مقام پر چلے جاؤ۔ لوگوں نے پوچھا کہ کہاں جائیں۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ حبشہ کی طرف۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ حبشہ میں ایک منصف بادشاہ ہے۔ اس کی مملکت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page