Urdu book · سیرتِ رسول

ہجرتِ حبشہ

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کوئی شخص کسی کے اوپر ظلم نہیں کر سکتا۔ اس کے مطابق، لوگوں نے مکہ سے نکلنا شروع کیا۔ رجب 5 نبوی میں مسلمانوں کا پہلا قافلہ حبشہ کے لیے روانہ ہوا۔ اس میں 11 مرد اور 5 عورتیں تھیں۔ یہ لوگ چپ چھپ کر خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ مکہ سے روانہ ہو کر جدہ کے ساحل پر پہنچے۔ یہاں دو تجارتی کشتیاں حبشہ جانے کے لیے تیار تھیں۔ وہ پانچ درہم کرایہ ادا کر کے اس پر سوار ہو گئے۔ مکہ کے لوگوں کو خبر ہوئی تو مسلمانوں کو پکڑنے کے لیے اپنے آدمی دوڑائے۔ مگر یہ لوگ جب بندرگاہ پر پہنچے تو مسلمانوں کو لے کر کشتیاں وہاں سے روانہ ہو چکی تھیں ۔ جلد ہی بعد مسلمانوں کا ایک اور قافلہ حبشہ کی طرف روانہ ہوا۔ دوسری ہجرت میں 86 مرد اور 17 عورتیں شامل تھیں۔ قریش نے جب دیکھا کہ مسلمان حبشہ پہنچ کر مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ وہاں ان کے اسلام پر کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں تو انہوں نے پھر آپس میں مشورہ کیا۔ طے ہوا کہ عمر بن العاص اور عبد اللہ بن ابی ربیعہ کو تحفے اور ہدیے لے کر حبشہ بھیجا جائے۔ وہاں وہ ان کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو دیں۔ اسی طرح دربار کے لوگوں اور بادشاہ کے مقربین کو بھی پہنچائیں اور ان کو اپنا ہم خیال بنائیں۔ اس فیصلے کے مطابق ، عمر بن العاص اور عبد اللہ بن ابی ربیعہ دونوں حبشہ پہنچے۔ انہوں نے پہلے تمام درباریوں اور بادشاہ کے قریبی لوگوں کو تحفے دیئے اور ان سے گفتگو کر کے انہیں اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ بادشاہ کے سامنے ان کی تائید کریں۔ انہوں نے ان سے کہا کہ ہمارے شہر کے کچھ نادان لوگ اپنا آبائی دین چھوڑ کر تمہارے ملک میں پناہ گزیں ہو گئے ہیں۔ وہ نہ ہمارے دین پر ہیں اور نہ تمہارے (عیسائی) دین پر۔ بلکہ انہوں نے ایک نیا دین اختیار کیا ہے جس سے ہم اور تم دونوں واقف نہیں۔ ہماری قوم کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page