Urdu book · سیرتِ رسول

ہجرتِ حبشہ

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑوسیوں سے برا سلوک کرتے تھے۔ ہم حرام کو حلال کیے ہوئے تھے۔ اور ہمارا بعض ہمارے بعض کا خون بہاتا تھا۔ ہم نہ حلال کو جانتے تھے اور نہ حرام کو۔ پھر اللہ نے ہمارے پاس ہم میں سے ایک شخص کو نبی بنا کر بھیجا۔ ہم اس کی سچائی اور اس کی امانت داری کو جانتے تھے۔ اس نے بتایا کہ ہم رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کریں۔ اور پڑوسیوں کی حمایت کریں۔ سچ بات بولیں۔ امانت ادا کریں۔ جھوٹ سے پرہیز کریں اور یتیم کا مال نہ کھائیں۔ اور اس نے ہم کو حکم دیا کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں، کسی اور کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں، اسی کے لیے روزہ رکھیں اور اسی کے لیے زکوٰۃ دیں۔ پھر ہم نے اس کی تصدیق کی اور جو کچھ وہ اللہ کی طرف سے لایا تھا اس کی پیروی اختیار کی۔ اس پر ہماری قوم نے ہم کو ستانا شروع کیا اور ہمارے ساتھ زیادتیاں کیں۔ انہوں نے چاہا کہ ہم دوبارہ چھوڑے ہوئے دین کی طرف واپس چلے جائیں۔ جب ہم ان کے ظلم سے تنگ آگئے تو ہم اپنا وطن چھوڑ کر یہاں آگئے، اس امید میں کہ آپ کے ملک میں ہمارے ساتھ ظلم نہ کیا جائے گا۔ حضرت جعفر کی اس گفتگو سے بادشاہ متاثر ہوا۔ اس نے کہا کہ تمہارے پیغمبر اللہ کی طرف سے جو کلام لائے ہیں اس کا کوئی حصہ پڑھ کر سناؤ۔ حضرت جعفر نے سورہ مریم کا ابتدائی دور کوع پڑھ کر سنایا۔ یہ رکوع حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ اس کو سن کر نجاشی کی آنکھ سے آنسو نکل آئے۔ حتی کہ روتے روتے اس کی داڑھی تر ہو گئی۔ نجاشی نے کہا کہ یہ کلام اور وہ کلام جو مسیح لے کر آئے دونوں ایک ہی سر چشمہ سے نکلے ہیں۔ اس کے بعد نجاشی نے قریشی کے وفد سے کہا کہ تم لوگ واپس جاؤ۔ میں ان لوگوں کو ہرگز تمہارے سپرد نہیں کروں گا۔ مکہ کے وفد نے اب بھی ہار نہیں مانی۔ اگلے دن وہ دوبارہ نجاشی کے دربار میں گئے اور اس نے کہا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ کے بارے میں بہت سخت بات کہتے ہیں۔ آپ ان کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page