ہجرتِ حبشہ
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
بلا کر اس کی بابت دریافت کریں۔ نجاشی نے دوبارہ مسلمانوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ حضرت عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ حضرت جعفر نے جواب دیا کہ ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی نے ہم کو بتایا ہے۔ وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے ۔ وہ خدا کی روح اور اس کا کلمہ تھے۔ نجاشی نے زمین پر سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا کہ خدا کی قسم ، تم نے جو کچھ کہا، حضرت عیسیٰ اس ایک تنکے کے برابر بھی زیادہ نہ تھے۔ اس پر بادشاہ کے درباری کافی برہم ہوئے مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس کے بعد اس نے مسلمانوں سے کہا کہ تم امن کے ساتھ رہو۔ سونے کا پہاڑ لے کر بھی میں تم کو ستانا پسند نہیں کروں گا۔ اس نے حکم دیا کہ قریش کے تمام تحفے اور ہدیے واپس کر دیئے جائیں۔ دربار ختم ہوا تو مسلمان مسرت کے ساتھ باہر نکلے اور قریش کا وفد اس حال میں نکلا کہ ان کے چہروں پر ذلت اور شرمندگی چھائی ہوئی تھی۔ اس کے بعد مسلمان اطمینان کے ساتھ حبش میں مقیم رہے۔ جب رسول اللہ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ان کی بیشتر تعداد اس خبر کو سن کر حبشہ سے مدینہ چلی آئی۔ بقیہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ 7 ھ میں فتح خیبر کے وقت مدینہ پہنچے۔ روایات بتاتی ہیں کہ شاہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی۔ اس نے مسلمانوں کو گواہ بنا کر کلمہ پڑھا۔ مسلمان جب مدینہ واپس ہونے لگے تو اس نے ان کو سفر خرچ اور زادِ راہ دیا اور کہا کہ اپنے پیغمبر کے پاس پہنچ کر ان سے کہنا کہ میری مغفرت کے لیے دعا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ فوراً اُٹھے۔ وضو کیا اور تین بار فرمایا کہ اے اللہ، تو نجاشی کی مغفرت فرما (اَللّٰھُمَّ اِغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ ) مسند البزار ، حدیث نمبر 1328۔ مسلمان جب تک حبش میں رہے وہ عزت اور امن کے ساتھ وہاں رہے۔ نجاشی ان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader