Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر گیری بھی کرتا رہتا تھا۔ ایک بار نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر پوچھا کہ کیا یہاں کوئی تم کو ستا تا ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہاں۔ نجاشی نے حکم دیا کہ جو شخص کسی مسلمان کو ستائے، اس سے چار درہم تاوان لے کر اس مسلمان کو دیا جائے۔ پھر نجاشی نے مسلمانوں سے پوچھا کہ کیا یہ کافی ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ نہیں۔ اس کے بعد نجاشی نے تاوان کی رقم آٹھ درہم کر دی اور اس کے مطابق لوگوں کے درمیان منادی کے ذریعہ اعلان کرایا۔ مسلمان نجاشی کے اس ملک میں اس کے خیر خواہ بن کر رہے۔ اس زمانہ میں نجاشی کے ملک پر اس کے ایک دشمن نے حملہ کر دیا۔ مسلمانوں کو اس واقعہ پر بہت رنج ہوا۔ وہ نجاشی کی کامیابی اور دشمن پر اس کے غلبہ کی دعائیں کرتے رہے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ نجاشی کو اپنے دشمن پر فتح حاصل ہوئی تو وہ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ آپ کا بائیکاٹ جب قریش کو معلوم ہوا کہ کچھ مسلمان مکہ چھوڑ کر حبشہ چلے گئے ہیں تو مکہ کے باقی ماندہ مسلمانوں پر انہوں نے اپنا غصہ اتارنا شروع کیا۔ مسلمانوں کے مخالفین کا سردار ابو جہل تھا۔ اب جو مسلمان مکہ کے معزز لوگوں میں سے ہوتا تو وہ اس سے کہتا کہ تم کو شرم نہیں آتی کہ تم نے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دیا۔ اور اگر مسلمان سوداگر ہوتا تو وہ اس کو ڈراتا کہ اب اس شہر کا کوئی شخص تم سے خرید و فروخت نہیں کرے گا اور کسی کے ذمہ تمہارے پیسے ہوں تو وہ تم کو ادا نہیں کرے گا۔ اگر وہ عوام میں سے ہوتا تو ابو جہل اس کو کوڑے مارتا اور ذلیل کرنے کی کوشش کرتا۔ قریش نے کوشش کی کہ حبشہ کا بادشاہ مسلمانوں کو ان کے حوالے کر دے مگر اس میں انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ مسلمانوں پر سختیاں کر کے انہیں ان کے دین سے پھیرنے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ انہوں نے چاہا کہ حضرت محمد کا قبیلہ بنو ہاشم، آپ کی حمایت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page