آپ کا بائیکاٹ
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
سے دست بردار ہو جائے تو آپ کو قتل کر دیں۔ مگر بنو ہاشم کی عرب غیرت اس پر آمادہ نہ ہو سکی کہ وہ آپ کی حمایت سے دست برداری کا اعلان کر دیں اور قریش کے لیڈر آپ کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیں۔ آخر انہوں نے 616ء میں آپ کے خاندان (بنو ہاشم کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کعبہ کی دیوار پر ایک صحیفہ لگا دیا۔ یہ گویا ایک سرکاری فرمان تھا جس میں اعلان کیا گیا تھا: 1۔ مکہ کے کسی باشندہ کو اجازت نہیں کہ وہ کسی مسلمان مرد یا عورت سے گفتگو کرے۔ 2۔ مکہ کا کوئی باشندہ کسی مسلمان کے بدن کو نہ چھوئے (مصافحہ نہ کرے)۔ 3۔ مکہ کا کوئی باشندہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ کوئی چیز کسی مسلمان سے خریدے یا اس کے ہاتھ فروخت کرے ۔ 4۔ مکہ کے کسی باشندہ کو اجازت نہیں کہ وہ کسی مسلمان لڑکی سے نکاح کرے یا کسی مسلمان کے نکاح میں اپنی لڑکی دے۔ 5۔ جس شخص پر کسی مسلمان کا قرض ہے، وہ اس کی ادائیگی سے آزاد ہے۔ 6۔ یہ فرمان اس وقت تک باقی رہے گا جب تک محمد اپنے مذہب کو نہیں چھوڑیں گے۔ یا ہاشم کا قبیلہ ان کی حمایت چھوڑ دے تا کہ قریش انہیں قتل کر سکیں۔ اس معاہدہ کا مضمون منصور بن عکرمہ نے لکھا اور اس کو موم جامہ میں لپیٹ کر خانہ کعبہ کے اندرونی حصہ میں آویزاں کر دیا گیا۔ اس طرح 616ء میں حضرت محمد اور تمام مسلمانوں کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس وقت بھی قبیلہ بنو ہاشم نے آپ کی حمایت نہ چھوڑی۔ وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ مکہ سے نکل گئے۔ ان میں آپ کے چچا ابو طالب بھی تھے جو آخر تک بت پرست رہے۔ ان لوگوں نے ایک پہاڑی درہ میں پناہ لی جو شعب ابی طالب کے نام سے مشہور تھا۔ آپ کے قبیلہ میں ابو لہب واحد شخص تھا جو آپ کے ساتھ نہیں نکلا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader