آپ کا بائیکاٹ
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
مکہ کے باہر ان پہاڑیوں پر درخت تو در کنار گھاس بھی نہ تھی۔ تمام سال وہاں ایک پرندہ بھی نظر نہ آتا تھا۔ کیوں کہ پرندے وہیں جاتے ہیں جہاں سبزہ اور چشمہ ہو۔ مسلمان مذکورہ صحیفہ کے مطابق، کھانے پینے کی کوئی چیز مکہ والوں سے خرید نہ سکتے تھے۔ شعب ابی طالب کے راستہ سے کوئی قافلہ بھی گزرتا تھا کہ مسلمان ان سے کچھ خرید سکیں۔ مسلمانوں نے وہاں ہولناک بھوک کو برداشت کیا۔ بچے بھوک سے بلبلاتے تو ان کے رونے کی آوازیں پہاڑی چٹانوں سے ٹکرا کر دور دور تک پہنچتیں۔ جو چیز بھوک سے نہ مرنے کا سبب ہوئی وہ تھی کہ ہر سال چار مہینے کے لیے لڑائی جھگڑے حرام سمجھے جاتے تھے۔ ان دنوں مسلمان شہر میں آسکتے تھے اور اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کر سکتے تھے۔ زائرین کعبہ جن جانوروں کی قربانی کرتے ، یہ لوگ ان کی کھالیں جمع کر کے سکھا لیتے اور سال کے بقیہ مہینوں میں ان کھالوں کو ابال کر کھاتے۔ حضرت خدیجہ، جو کسی وقت مکہ کی مال دار ترین خاتون تھیں ، حضرت محمد کے ساتھ اس گھاٹی میں زندگی بسر کر رہی تھیں، حضرت خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے کچھ کھانا آپ کے لیے بھیجا۔ قریش کے لوگوں نے ، جو برابر نگرانی میں رہتے تھے، جب دیکھا تو کھانا چھین لیا اور اس شخص کو اتنا مارا کہ کئی دن تک بستر سے اٹھ نہ سکا۔ حضرت محمد اور آپ کے ساتھی اسی طرح تین سال تک گھاٹی میں پڑے تھے۔ اس زمانہ میں حضرت خدیجہ کے گھر کا کل اثاثہ صرف ایک پتیلی اور ایک کوزہ تھا۔ ایک دن کوزہ ٹوٹ گیا ۔ جب آپ نیا کوزہ نہ خرید سکیں تو صبر کرلیا۔ یہاں تک کہ ایک کاریگر وہاں سے گزراتو حضرت خدیجہ نے اپنا ٹوٹا ہوا کوزہ اس کو دیا کہ وہ اس کو جوڑ دے۔ اسی بھوک اور غربت کی حالت میں حضرت خدیجہ بیمار پڑ گئیں اور بغیر کسی دوا علاج کے 619 میں ان کا انتقال ہو گیا جب کہ وہ شعب ابی طالب سے اپنے گھر واپس آ چکی تھیں۔ اُس وقت مسلمانوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader