آپ کا بائیکاٹ
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
پاس کفن کا کپڑا بھی نہ تھا۔ چنانچہ حضرت خدیجہ کو ان کی چادر میں دفن کر دیا گیا۔ اس کے چند روز بعد آپ کے چاچا ابو طالب کا بھی انتقال ہو گیا۔ ابو طالب کے بھائی ابو لہب کو لوگوں نے خبر دی کہ تمہارا بھائی مر رہا ہے تو وہ وہاں گیا اور ابو طالب سے کہا کہ قسم کھاؤ کہ تم نے دین محمد کو قبول نہیں کیا اور تم اپنے باپ دادا کے مذہب پر مر رہے ہو۔ ابو طالب نے اقرار کیا کہ میں اپنے باپ دادا کے مذہب پر مر رہا ہوں۔ یہ مقاطعہ نہ صرف ایک جسمانی عذاب تھا بلکہ اس عرصہ میں مسلمانوں کی اقتصادیات بھی بالکل برباد ہو گئیں۔ حضرت ابو بکر اور دوسرے تاجر مسلمانوں کا سارا کاروبار بالکل ٹھپ ہو گیا اور جمع شدہ دولت بھی ختم ہو گئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دوران بھی مکہ میں کچھ لوگ تھے جن کے ضمیر اس ظلم کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔ مثلاً یہ واقعہ آتا ہے کہ حضرت خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام ایک روز اپنی پھوپھی کے لیے کچھ غلہ لے کر اپنے غلام کے ساتھ شعب ابی طالب کی طرف چلے۔ راستہ میں ابو جہل مل گیا اور راستہ روک کر حکیم سے لڑنے لگا۔ اتفاقاً ابو البختری اس طرف آ گیا۔ اس نے ابو جہل سے کہا کہ یہ شخص اپنی پھوپھی کے لیے کچھ لے جا رہا ہے، تم کیوں اسے روکتے ہو۔ اب ابو جہل ابو البختری سے بھی لڑ پڑا۔ ابو البختری غصہ ور آدمی تھا۔ اس نے اونٹ کی ایک ہڈی اٹھا کر ابو جہل کے سر پر دے ماری۔ اس طرح کے اور بھی کچھ لوگ مکہ میں تھے جن کے ضمیر انہیں اس ظلم کے خلاف ملامت کرتے رہتے تھے۔ ہشام بن عمرو عامری نے اس سلسلہ میں سب سے پہلے تحریک کی جرات کی۔ اس نے اپنے چند دوستوں کو ہم خیال بنایا اور ان کو لے کر ایک روز خانہ کعبہ میں پہنچا جہاں سرداران قریش پہلے سے موجود تھے۔ عبد المطلب کے نواسے زہیر جو ہشام کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader