آپ کا بائیکاٹ
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ آئے تھے، انہوں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سرداران مکہ سے کہا: اے اہل مکہ! یہ کیا انصاف ہے کہ ہم لوگ کھائیں اور خرید و فروخت کریں اور ہمارے عزیز بنی ہاشم اور بنی مطلب بھوک سے دم توڑیں۔ خدا کی قسم، اب میں اس معاہدہ کو چاک کیے بغیر نہ رہوں گا۔ "تم اس معاہدہ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ تم جھوٹے ہو" ابو جہل نے چلا کر کہا۔ "جھوٹے تم ہو“ زمعہ بن اسود نے کہا” جب یہ معاہدہ لکھا گیا، اس وقت بھی تم نے ہماری رائے سے اس کو نہیں لکھا تھا۔“ ابو البختری اور مطعم بن عدی نے بھی اس کی تائید کی۔ اس طرح وہ معاہدہ جو پہلے متفق علیہ سمجھا جاتا تھا، اہل مکہ کے درمیان نزاعی بن گیا۔ اسی درمیان ایک اور واقعہ ہوا جس نے ایک فریق کے مقابلہ میں دوسرے فریق کے حق میں نزاع کا فیصلہ کر دیا۔ یہ ایک جغرافی حقیقت ہے کہ گرم ملکوں میں دیمک زیادہ پائی جاتی ہیں جو اکثر لکڑی اور کاغذ کو کھا جاتی ہیں۔ چنانچہ تین سال گزرے تھے کہ اس "صحیحہ" کو دیمک لگ گئی اور اس طرح کھا گئی کہ معاہدہ کا اصل حصہ ختم ہو گیا اور صرف "اللہ" کا نام باقی رہ گیا جس سے حسب قاعدہ تحریر کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے علم میں آنے کے بعد سب خوف زدہ ہو گئے اور اس پر راضی ہو گئے کہ بنی ہاشم کا مقاطعہ ختم کر دیا جائے۔ رہائی کا یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال پیش آیا۔ مسلمان جب گھاٹی سے طویل عرصہ تک بھوک کی شدت برداشت کرنے کے بعد واپس آئے تو وہ نہایت کمزور ہو چکے تھے۔ ان کے چہروں کی ہڈیاں نمایاں تھیں اور جسم کی کھال کو دھوپ نے سیاہ کر دیا تھا۔ مقاطعہ کا یہ صحیفہ اگرچہ باضابطہ طور پر خاندانِ بنی ہاشم اور خاندانِ بنی مطلب کے خلاف تھا مگر بالواسطہ طور پر دوسرے مسلمان بھی اس کی زد میں آگئے تھے۔ چنانچہ بنو ہاشم کے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader