Urdu book · سیرتِ رسول

آپ کا بائیکاٹ

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کی وجہ سے مصیبت سہنی پڑی جو مقاطعہ کے ختم ہونے کے بعد ختم ہو گئی۔ تین سال کے بعد مسلمانوں نے گھاٹی سے نکل کر مکہ میں قدم رکھا۔ تین سالہ مقاطعہ میں مسلمانوں کی معاشیات بالکل برباد ہو گئیں۔ لوگوں کی تجارتیں ختم ہو گئیں۔ حضرت ابو بکر کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ قارون کی دولت رکھتے ہیں۔ مگر ان کے پاس صرف پانچ ہزار درہم باقی رہ گئے۔ مسلمان جب گھاٹی سے طویل عرصہ تک بھوک پیاس برداشت کرنے کے بعد نکلے تو بہت زیادہ کمزور ہو چکے تھے۔ ابو لہب نے خاندانی غیرت کے تحت حضرت محمد کے مقاطعہ کو ختم کرنے سے اتفاق کیا تھا، مگر اس کی اسلام دشمنی اس کو مسلسل آپ کے خلاف برانھیختہ رکھتی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ قبیلہ بنی ہاشم سے آپ کا اخراج کر دیا جائے۔ اس نے طے شدہ نقشہ کے مطابق، ایک روز اپنے قبیلہ کے لوگوں کو دعوت پر بلایا۔ لوگ جمع ہو گئے تو ابو لہب نے حضرت محمد سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے بزرگ عبدالمطلب کے بارے میں آپ کے خیالات معلوم کروں، وہ جنت میں ہوں گے یا جہنم میں۔ آپ نے فرمایا کہ مشرکین خواہ پیغمبر کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں، وہ جہنم میں جانے سے نہیں بچ سکتے۔ پھر ابو لہب نے کہا میرے بھائی ابو طالب بخشے گئے یا نہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ ابو لہب نے اس طرح خاندان کے مختلف بزرگوں کا نام لے لے کر پوچھا۔ آپ نے ہر ایک کے بارے میں کہا کہ مشرک کی بخشش نہیں۔ یہ خدا کا قطعی حکم ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں۔ قدیم عرب میں اجداد کی بڑی اہمیت تھی۔ اب تک آپ نے ایک نیا دین تو ضرور پیش کیا تھا مگر اس طرح صراحت سے اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں بیان نہیں دیا تھا۔ خاندان کے لوگ یہ سن کر سخت متحیّر ہوئے۔ ابو لہب نے بحیثیت سردار قبیلہ کے لوگوں سے پوچھا کہ کیا مجھے حق ہے یا نہیں کہ محمد کو قبیلہ سے نکال دوں۔ لوگوں نے تصدیق کی۔ کیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page