Urdu book · سیرتِ رسول

آپ کا بائیکاٹ

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ قبیلہ کے رواج کے مطابق ، آپ اس کے مجرم ہو چکے تھے۔ ابولہب نے چند دن کے بعد آپ کو قبیلہ سے خارج کرنے کا اعلان کر دیا۔ مکہ میں جو شخص اپنے قبیلہ سے نکال دیا جاتا اس کا خون معاف ہوتا تھا اور ہر شخص کو حق تھا کہ چاہے اسے قتل کر دے ، یا غلام بنا لے قبیلہ سے اخراج کے بعد آپ بالکل تنہا ہو گئے۔ ابولہب نے اس طرح آپ کو ایک خشک بیابان میں ناقابل کاشت زمین کے سپرد کر دیا۔ اور یہ واقعہ ایسے موقع پر ہوا جب کہ وہ دونوں انسان آپ سے رخصت ہو چکے تھے جو آسمان کے نیچے آپ کا ظاہری سہارا تھے ۔ خدیجہ اور ابوطالب۔ اب آپ کے دشمن بلاخوف قصاص آپ کو قتل کر سکتے تھے۔ اس زمانہ میں قبیلہ بنوحیفہ کے کچھ لوگ عمرہ کرنے کے لیے مکہ آئے۔ قریش والوں نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ رقم دے کر حضرت محمد کے قتل کے لیے مقرر کیا۔ آپ کو یہ بات معلوم ہوگئی اور آپ رات کے وقت حضرت زید بن حارثہ کو لے کر مکہ سے روانہ ہوگئے اور طائف کا رخ اختیار کیا۔ طائف مکہ کے جنوب میں واقع ہے۔ سمندر کی سطح سے ایک ہزار آٹھ سو فٹ بلند ہے اور سرسبز و شاداب ہے اس لیے مکہ کے اکثر دولت مند وہاں اپنا باغ اور مکان رکھتے تھے۔ چونکہ طائف کے لوگ مال دار تھے ، اس لیے یہاں کے لوگوں کو علم و ہنر کے لیے بھی وقت مل جاتا تھا۔ شمالی عرب کا واحد طبیب حارث بن کلدہ طائف ہی میں رہتا تھا جس نے ایرانیوں سے علم طب سیکھا تھا۔ اس زمانہ کا مشہور عرب نجومی عمروبن امیہ بھی یہیں مقیم تھا۔ طائف کے معنی دیوار کے ہیں ۔ یہ عرب کا محصور شہر تھا اس لیے اس کو طائف کہتے تھے۔ 10 نبوی کو اسلام کی تاریخ میں عام الحزن (غم کا سال) کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ شعب ابی طالب سے نکلنے کے بعد اسی سال آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔ اور پھر آپ کی اہلیہ خدیجہ کا بھی انتقال ہو گیا۔ دونوں کی وفات کے درمیان تقریباً ایک ہفتہ کا فاصلہ تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page