سیرتِ رسول
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم مکہ میں ابو طالب آپ کے سب سے بڑے حامی اور سر پرست تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک مخالفوں کے مقابلہ میں آپ کا بچاؤ کیا حتیٰ کہ بائیکاٹ کے زمانہ میں آپ کے ساتھ خشک گھاٹی میں چلے گئے۔ تاہم انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قریب جا کر فرمایا کہ اے چچا، آپ ایک بار لا الہ الا اللہ کہہ دیجئے تا کہ اللہ کے سامنے میں آپ کی شفاعت کر سکوں۔ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ جو پاس ہی موجود تھے، انہوں نے کہا کہ اے ابو طالب، کیا تم عبد المطلب کی ملت (دین) کو چھوڑ رہے ہو۔ چنانچہ ابو طالب نے لا الہ الا اللہ نہیں کہا۔ آخری کلمہ جو ان کی زبان سے نکلا وہ تھا: عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِبِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1360)۔ یعنی، عبد المطلب کے دین پر مرتا ہوں۔ خدیجہ کا انتقال آپ کے اوپر بہت گراں تھا۔ وہ آپ کی صرف اہلیہ نہیں تھیں بلکہ پورے معنوں میں آپ کی رفیق تھیں۔ ان کی وفات کے بعد آپ نے محسوس کیا کہ گویا آپ اب دنیا میں اکیلے رہ گئے ہیں۔ ابو طالب کی وفات کے بعد عربوں کے قبائلی رواج کے مطابق، بنو ہاشم کے لیے ضروری تھا کہ وہ ابو طالب کی وفات کے بعد کوئی دوسرا رئیس قبیلہ منتخب کریں۔ مقررہ رواج کے تحت یہ حق ابو طالب کے بھائی ابو لہب کے حصہ میں آیا۔ ابو لہب کا قبیلہ ہاشم کا سردار بن جانا حضرت محمد کے لیے شدید تر مسئلہ کی صورت میں سامنے آیا۔ اب اس نے منصوبہ بنایا کہ حضرت محمد کو قبیلہ سے نکال دے جس کے بعد آدمی بے یار و مددگار ہو جاتا تھا اور اگر کوئی اس کو قتل کر دے تو اس کے قبیلہ سے اس کو جنگ نہیں کرنی پڑتی تھی۔ مکہ والوں نے اس سے پہلے بھی یہی مطالبہ کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ بنو ہاشم حضرت محمد کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader