ابوطالب کی وفات کے بعد
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے قبیلہ سے نکال دیں تا کہ وہ آپ کو قتل کر سکیں ۔ مگر ابو طالب ، جو اس سے پہلے رئیس قبیلہ تھے ، انہوں نے اس کو گوارا نہ کیا اور اپنے بھتیجے کو لے کر گھاٹی میں چلے گئے جہاں سختیاں برداشت کرتے ہوئے ان کا انتقال ہو گیا ۔ یہ بات بے حد اہم تھی۔ کیوں کہ عرب میں ہر شخص ایک قبیلہ کا جزو ہوتا ۔ قبیلہ سے کٹنے کے بعد اس کی کوئی زندگی نہ تھی۔ ابو لہب نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قبیلہ بنو ہاشم سے خارج کر دیا۔ اس طرح اس نے آپ کو تمام زندہ چیزوں سے الگ کر کے گویا ایک خشک بیابان میں ڈال دیا اور ناقابل کاشت صحرا کے سپرد کر دیا۔ اپنے قبیلہ سے کٹ کر آپ زمین میں بالکل تنہا ہو گئے۔ اس سے پہلے جب بھی آپ کو کوئی تکلیف ہوتی تھی تو حضرت خدیجہ آپ کے زخم دھوتیں اور آپ کی خدمت کرتیں ۔ آپ کے چچا ابو طالب آپ کی دل داری کرتے۔ مگر اب نہ خدیجہ اس دنیا میں رہ گئی تھیں اور نہ ابو طالب۔ اب آپ نے یہ کیا کہ حج کے موسم میں جب عرب کے مختلف قبیلوں کے لوگ مکہ آتے تو آپ ان میں سے ایک ایک کے پڑاؤ پر جا کر ان سے ملتے اور ان سے کہتے کہ مجھ کو اپنی حفاظت میں لے لو۔ تا کہ اپنا کام جاری رکھ سکوں۔ آپ قبیلہ بنو عامر کے پاس گئے تو انہوں نے آپ پر پتھراؤ کیا۔ قبیلہ بنو محارب کے پاس گئے تو اس نے ابو لہب کے ڈر سے آپ کو اپنی حمایت میں لینے سے انکار کر دیا۔ عکاظ کے میلہ میں قبیلہ بنو کندہ کے پاس گئے اور اس سے کہا: أَدْعُوكُمْ إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ ( دلائل النبوة لابی نعیم الاصبهانی ، حدیث نمبر (222) ۔ یعنی ، میں تم کو ایک خدا کی طرف بلاتا ہوں اور اس بات کی طرف کہ تم جس طرح اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح میری حفاظت کرو۔ مگر انہوں نے آپ کی بات پر دھیان نہیں دیا۔ ایک اور قبیلہ نے آپ کی درخواست پر کہا کہ لَا نَطْرُدُكَ وَلَا نُؤْمِنُ بِكَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader