ابوطالب کی وفات کے بعد
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
(ہم نہ تم کو دھتکاریں گے اور نہ تمہارے اوپر ایمان لائیں گے) السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد 2، صفحہ 161۔ مختلف قبائل میں سے کوئی بھی قبیلہ آپ کی حمایت کرنے پر تیار نہ ہوا۔ طائف کے باشندے دولت مند تھے۔ زراعت اور باغبانی کے علاوہ وہ سود کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اصل سرمایا کا صد فی صد سود وصول کرتے تھے۔ طائف میں اس زمانہ میں شمالی عرب کا واحد عرب طبیب حارث بن کلدہ رہتا تھا جس نے مورخ ابن خلکان کے بیان کے مطابق، علم طب ایرانیوں سے سیکھا تھا۔ اس زمانہ میں عرب کا سب سے بڑا نجومی بھی طائف میں رہتا تھا جس کا نام عمرو بن امیہ تھا۔ عربی زبان میں ”طائف“ دیوار کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ عرب کا واحد شہر تھا جس کے چاروں طرف دیوار تھی، اس لیے اس کا نام طائف پڑ گیا۔ طائف کے ممتاز لوگوں میں عبد یالیل، مسعود اور حبیب بہت نمایاں تھے اور تینوں بھائی تھے۔ آپ نے سوچا کہ اگر انہوں نے میری بات مان لی تو ساری بستی میری بات مان لے گی۔ آپ سب سے پہلے انہی کے پاس گئے۔ مگر تینوں نے نہایت حوصلہ شکن جواب دیا۔ عبد یالیل عبدالمطلب کا رشتہ دار بھی تھا۔ ”خدا نے کعبہ کی بے عزتی کے لیے تم کو ہی نبی بنا کر بھیجا ہے ایک نے کہا۔ ”کیا اللہ کو تمہارے سوا کوئی اور رسول بنانے کے لیے نہیں ملا تھا“ دوسرا بولا۔ ”اگر تم رسالت کے دعوے میں سچے ہو تو تم سے بات کرنا بے ادبی ہے اور اگر تم جھوٹے ہو تو تم سے مخاطب ہونا ہماری شان کے خلاف ہے“ تیسرے نے کہا۔ حضرت محمد طائف سے مایوس ہو کر واپس ہوئے تو ان لوگوں نے بستی کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ آپ کو گالیاں دیتے اور پتھر برساتے۔ اس وقت آپ کے ساتھ صرف زید بن حارثہ تھے۔ وہ پتھروں کی بوچھاڑ اپنی چادر پر لیتے، پھر بھی آپ کا جسم لہولہان ہو گیا حتی کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader