Urdu book · سیرتِ رسول

ابوطالب کی وفات کے بعد

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

خون بہہ کر آپ کے جوتوں میں بھر گیا۔ حضرت محمد جب زخموں سے نڈھال ہو کر بیٹھ جاتے تو وہ آپ کا بازو پکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے اور جب آپ چلنے لگتے تو پھر گالیوں اور پتھروں کی بارش کر دیتے۔ طائف کے سرداروں کو آپ کے خلاف اتنا شدید رویہ اختیار کرنے کی جرات اس لیے ہوئی کہ نہیں معلوم ہو گیا تھا کہ قبیلہ بنو ہاشم نے آپ کو اپنی برادری سے خارج کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ اس حال میں شام ہو گئی اور طائف کے لڑکے واپس چلے گئے۔ سامنے عقبہ اور شیبہ، دو بھائیوں کا انگوروں کا باغ تھا، یہ مکہ کے رہنے والے تھے۔ حضرت محمد نے اس باغ میں پناہ لی۔ اس وقت دعا کرتے ہوئے آپ کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ آپ کی اس وقت کی کیفیت کے مکمل ترجمان ہیں۔ آپ نے کہا: اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَشْكُوكَ ضَعْفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ (سیرة ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 420)۔ یعنی، اے اللہ میں تجھ سے اپنی کمزوری اور بے تدبیری اور لوگوں کی نگاہوں میں اپنی ذلت کی شکایت کرتا ہوں۔ باغ والوں کو آپ کی حالت پر رحم آیا اور انہوں نے اپنے ایک غلام عداس کے ہاتھ انگور کے چند خوشے ایک طباق میں رکھ کر آپ کے پاس بھیجے۔ آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ انگور اٹھایا اور اس کو نوش فرمایا۔ یہ غلام نصرانی، "بسم اللہ" پڑھ کر کھانے کا یہ طریقہ اسے علاقہ کے رواج کے خلاف معلوم ہوا۔ اس نے تعجب سے پوچھا کہ یہ طریقہ آپ نے کہاں سے سیکھا۔ آپ نے جواب میں غلام سے دریافت کیا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو، اس نے "نینوا" کا نام لیا۔ حضرت محمد نے کہا " اس نینوا کے جہاں اللہ کے مقدس بندے بندے یونس بن متی پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ غلام کو اب اور بھی زیادہ تعجب ہوا۔" آپ یونس بن متی کو جانتے ہیں "۔ اس نے کہا۔ آپ نے جواب دیا " ہاں وہ میرے بھائی ہیں، وہ بھی نبی تھے، میں بھی نبی ہوں"۔ غلام یہ سن کر آپ کے ہاتھ اور پیروں کو چومنے لگا اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page