ابوطالب کی وفات کے بعد
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت محمد طائف سے واپس آ کر مکہ کے باہر غار حرا میں ٹھہرے۔ مکہ میں دوبارہ داخل ہو کر امن کے ساتھ رہنے کے لیے آپ کو قبائلی رواج کے مطابق کسی کی’’امان‘‘کی ضرورت تھی، کیوں کہ اپنے خاندان سے آپ کٹ چکے تھے۔ آپ نے اخنس بن شریق اور سہیل بن عمر کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ آپ کو اپنی امان میں لے لیں مگر وہ تیار نہ ہوئے۔ آخر آپ کی نظر مطعم بن عدی پر پڑی۔ مطعم نے اس سے پہلے کئی بار آپ کی مدد کی تھی۔ اور خاندان نبوت کے مقاطعہ سے متعلق عہد نامہ کو منسوخ کرانے میں اس کا بہت حصہ تھا۔ حضرت محمد نے مطعم کو اپنی واپسی کی خبر دی اور پیغام بھیجا کہ وہ آپ کو اپنی پناہ میں لے لیں۔ مطعم نے فوراً اس کو قبول کر لیا اور اپنے چھ بیٹوں کو حکم دیا کہ اسلحہ بند ہو کر جاؤ اور محمد کو واپس لاؤ۔ مکہ میں داخل ہو کر آپ نے سب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا مطعم نے اعلان کیا کہ : ’’میں نے محمد کو پناہ دی ہے خبردار کوئی ان کو اذیت نہ پہنچائے‘‘۔ مطعم کی اس امان نے آپ کو موقع دیا کہ آپ دوبارہ مکہ میں رہ کر نبوت کا کام کر سکیں ۔ مطعم جنگ بدر سے پہلے اسلام قبول کیے بغیر مر گئے۔ حسان بن ثابت نے ان کا مرثیہ لکھا۔ جنگ بدر کے بعد جب قریش کے لوگ گرفتار ہو کر آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے فرمایا: لَّوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنِي لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ (السيرة النبوية لابن كثير، جلد 2، صفحہ 182)، یعنی، اگر آج مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور وہ ان نا پاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیتا۔ مکہ واپس آنے کے بعد آپ نے اس زمانہ میں سودہ سے نکاح کر لیا۔ سودہ اپنے شوہر کے ساتھ ہجرت کر کے حبشہ گئی تھیں۔ مگر ان کے شوہر وہاں پہنچ کر عیسائی ہو گئے۔ سودہ ان سے طلاق لے کر مکہ واپس چلی آئیں ۔ یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال پیش آیا۔ اس کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader