Urdu book · سیرتِ رسول

ابوطالب کی وفات کے بعد

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

ابوبکر نے جو پیغمبر اسلام کے دوست اور ساتھی تھے، پیغمبر اسلام سے درخواست کی کہ ان کی لڑکی عائشہ کو اپنی زوجیت میں لے لیں۔ عائشہ کی عمر اس وقت صرف سات سال تھی۔ اس لیے آپ نے کم سنی کی وجہ سے معذرت کیا۔ اس کے بعد ابوبکر کے اصرار پر 620 ء میں اس شرط پر نکاح ہو گیا کہ رخصتی بعد کو ہوگی۔ عائشہ سب سے پہلی خاتون ہیں جو مسلمان باپ اور ماں سے پیدا ہوئیں۔ طائف کا تجربہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سب سے زیادہ سخت تجربہ تھا۔ آپ کی اہلیہ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک بار آپ سے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ پر کیا احد سے بھی زیادہ سخت کوئی دن گزرا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ تمہاری قوم سے مجھ کو بہت سی تکلیفیں پہنچی ہیں۔ مگر میرے اوپر سب سے زیادہ سخت دن وہ تھا جس دن میں نے اپنے آپ کو طائف کے عبد یالیل کے بیٹے کے سامنے پیش کیا۔ اس نے مجھ کو نہایت برا جواب دیا۔ وہاں سے میں نہایت غم اور رنج کے ساتھ واپس ہوا۔ جب میں قرن الثعالب کے مقام پر پہنچا تو مجھ کو کچھ افاقہ محسوس ہوا۔ اس وقت میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ ایک بادل مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے اندر خدا کا فرشتہ جبریل ہے۔ جبریل نے وہیں سے مجھ کو آواز دی کہ اے محمد، آپ کی قوم نے آپ کو جو جواب دیا ہے وہ اللہ نے سن لیا۔ اب اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتہ (ملک الجبال) کو بھیجا ہے۔ آپ جو حکم چاہیں اس کو دیں۔ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے گا۔ اس کے بعد پہاڑوں کا فرشتہ میرے سامنے آیا۔ اس نے مجھ کو آواز دی اور مجھ کو سلام کیا۔ پھر کہا کہ اے محمد، اللہ نے مجھ کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ میں ملک الجبال ہوں۔ یہ تمام پہاڑ میرے قبضے میں ہیں۔ آپ جو چاہیں مجھ کو حکم دیں۔ اگر آپ حکم دیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں اور طائف کے تمام لوگ اس میں پس کر رہ جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page