Urdu book · سیرتِ رسول

ابوطالب کی وفات کے بعد

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ان کے جیسے نہ ہوں گے۔ وہ ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ طائف کا یہ سفر ہجرت سے تین سال پہلے پیش آیا۔ وہاں سے واپس ہوتے ہوئے جب آپ نخله کے مقام پر پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ اس وقت صرف زید بن حارثہ آپ کے ساتھ تھے۔ یہ پورا سفر آپ نے پیدل طے کیا۔ آپ سخت پریشان تھے کہ مکہ کس طرح واپس جائیں۔ سخت اندیشہ تھا کہ ان کو طائف کا قصہ معلوم ہو گیا تو وہاں کے لوگ اپنی مخالفت میں پہلے سے زیادہ جری ہو جائیں گے۔ اس دوران رات کو یہ واقعہ ہوا کہ آپ نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ کچھ جنات وہاں سے گزرے۔ انہوں نے قرآن کو سنا تو وہ متاثر ہو گئے اور اس پر ایمان لائے۔ یہ جنات واپس ہو کر اپنی قوم میں پہنچے تو انہوں نے اپنی قوم میں دین اسلام کی تبلیغ شروع کر دی ۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے بغیر ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعہ آپ کو اس کی خبر کی۔ قرآن میں فرمایا گیا: اور جب ہم جنات کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے ۔ وہ قرآن سننے لگے۔ پس جب وہ اس کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ چپ رہو۔ پھر جب قرآن پڑھا جا چکا تو وہ لوگ ڈرانے والے بن کر اپنی قوم کی طرف واپس ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اے ہماری قوم، ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسی کے بعد اتاری گئی ہے۔ ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کرتی ہوئی جو اس کے پہلے سے موجود ہیں۔ وہ حق کی طرف اور ایک سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اے ہماری قوم، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ اللہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور تم کو درد ناک عذاب سے بچائے گا۔ اور جو شخص اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک نہیں کہے گا تو وہ زمین میں ٹھہر نہیں سکتا۔ اور اللہ کے سوا اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page