Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں (32-46:29)۔ یہ ایک خوش خبری تھی جو اللہ نے عین وقت پر اپنے پیغمبر کو پہنچائی۔ اس میں بتایا گیا کہ زمین پر بسنے والوں کا ایک گروہ اگر قرآن کو رد کر رہا ہے تو عین اس وقت دوسرا گروہ اس کو قبول کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ وہ اتنی شدت کے ساتھ اس کو قبول کر رہا ہے کہ قبول کرتے ہی وہ اس دین کا مبلغ بن گیا ہے۔ مدینہ میں اسلام کا آغاز اسلام سے پہلے مکہ میں اور اس کے آس پاس میلے لگتے تھے۔ ذی قعدہ کے آغاز میں عکاظ کا مشہور میلہ لگتا تھا۔ لوگ یہاں سے فارغ ہو کر مجنہ کے میلے میں جاتے تھے جو تین ہفتے تک چلتا تھا۔ اس کے بعد ذوالحجاز کا میلہ تھا جو حج کے دنوں میں ہوتا تھا۔ ان میلوں کا اصل مقصد تجارت تھا۔ اس کے ساتھ ان مواقع پر شعر و شاعری اور پہلوانی کے مقابلے ہوتے اور شراب و کباب کے دور چلتے۔ ان میلوں میں دور دور کے لوگ آکر شریک ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میلوں کا گشت شروع کیا۔ آپ ہر ہر قبیلہ کے پڑاؤ پر جا کر اس کو اسلام کا پیغام سناتے۔ اس زمانہ کا واقعہ آپ کے ایک ساتھی بتاتے ہیں جب کہ وہ اسلام نہیں لائے تھے۔ انہوں نے کہا، میں ذوالحجاز کے بازار میں تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان دو سرخ یمنی چادروں میں ملبوس گزر رہا ہے۔ وہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا: یَاأَيُّهَا النَّاسُ قُوْلُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، تُفْلِحُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 16022)۔ یعنی، اے لوگو، لا الہ الا اللہ کہو، کامیاب ہوگے۔ لوگ اس کی بات سننے کے لیے اس کے چاروں طرف جمع ہو رہے تھے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کے پیچھے چل رہا ہے۔ اس نے پتھر مار مار کر آپ کی پنڈلیاں اور ٹخنے خون آلود کر رکھے تھے اور وہ کہتا جاتا تھا’’اے لوگو یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ ماننا‘‘۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے۔ لوگوں نے بتایا یہ محمد نام کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page