مدینہ میں اسلام کا آغاز
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ہاشمی نو جوان ہے جو اپنے کو رسول بتاتا ہے ۔ اور اس کے پیچھے دوسرا شخص اس کا چچا عبدالعزی (ابولہب) ہے۔ حضرت محمد اس طرح میلوں میں جا جا کر تبلیغ کرتے تھے۔ ایک بار منیٰ کے قریب مدینہ کے قبیلہ خزرج کے کچھ آدمیوں سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے ان کو بھی اسلام کی طرف بلایا ۔ مکہ کے تجربہ کے خلاف مدینہ والوں نے آپ کی بات کو توجہ سے سنا اور ان کی ایک تعداد اس وقت مسلمان ہوگئی۔ مدینہ اس زمانہ میں یثرب کہلاتا تھا۔ اور مکہ کے چار سو کلومیٹر کے فاصلہ پر مکہ کے شمال میں واقع تھا۔ یثرب کے آس پاس یہودیوں کے کئی قبیلے آباد تھے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں جب عراق کے بادشاہ بخت نصر نے فلسطین پر حملہ کیا اور بیت المقدس کو تاراج کر کے یہودیوں کو وہاں سے جلا وطن کر دیا تو ان کے بعض قبیلے عرب کی طرف بھاگ آئے اور خیبر ، فدک اور یثرب میں آباد ہوگئے۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ مسیح سے 120 سال قبل جب یمن میں مشہور سیلاب (سیل عرم) آیا اور وہاں کے لوگ دوسرے ملکوں میں جا کر بسے تو انہی میں دو بھائی اوس اور خزرج تھے جو اپنے خاندانوں کے ساتھ یثرب میں آ کر بس گئے۔ یہاں مزدوری اور کاشتکاری ان کے لیے گزر بسر کا ذریعہ تھا۔ ان کی آبادی بڑھی، یہاں تک کہ اوس اور خزرج دو بڑے بڑے قبیلے بن گئے۔ یہودیوں کے لیے اوس اور خزرج کے قبیلے مزدور فراہم کرنے کا ذریعہ تھے۔ اس کے علاوہ ان کا سودی کاروبار بھی انہیں لوگوں کے درمیان پھیلا ہوا تھا۔ یہودی اقتصادی طور پر برتر ہونے کے باوجود انسانی طاقت میں کمزور تھے۔ چنانچہ جب بھی جھگڑا ہوتا تو یہودی نہیں دھمکا کرتے کہ ”ہماری مذہبی کتابوں کے مطابق عنقریب ایک بہت بڑے نبی پیدا ہونے والے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ ہو کر تم سے لڑیں گے اور تم کو عاد اور ارم کی طرح مٹا دیں گے“۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader