مدینہ میں اسلام کا آغاز
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ پس منظر تھا جب نبوت کے گیار ہویں سال اوس اور خزرج کے لوگوں کو حضرت محمد کا پیغام ملا۔ یہ لوگ عمرہ کی غرض سے مدینہ سے مکہ آئے تھے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا اور آپ کی باتیں سنیں تو ان کے خیالات جاگ اٹھے جو انہوں نے اپنے پڑوسی یہودیوں سے سن رکھے تھے، ایک نے دوسرے سے کہا: ’’یہ تو وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کا یہودی ہم سے تذکرہ کرتے تھے۔‘‘ چنانچہ یثرب کے چھ آدمیوں نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ اگلے سال 621ء میں یثرب کے لوگ زیارت کعبہ کے لیے آئے تو وہاں کے مسلمانوں کی تعداد بارہ ہو چکی تھی۔ دس ایک قبیلہ کے تھے اور دو دوسرے قبیلہ کے۔ ان لوگوں نے مکہ پہنچ کر ایک گھاٹی (عقبہ) میں حضرت محمد سے ملاقات کی اور مدینہ میں اسلامی دعوت کے بارے میں مشورہ کیا۔ اسلامی تاریخ میں یہ واقعہ بیعت اولیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ ان لوگوں نے حضرت محمد کے ہاتھ ان شرائط پر بیعت کی: 1۔ ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے۔ 2۔ کسی کا مال نہ چرائیں گے۔ 3۔ زنا نہ کریں گے۔ 4۔ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے۔ 5۔ کسی پر جھوٹی تہمت نہ لگائیں گے۔ 6۔ نیک کاموں میں پیغمبر کی نافرمانی نہ کریں گے۔ یثرب کے یہ مسلمان اپنے وطن واپس ہونے لگے تو حضرت محمد نے ان کی تبلیغی اور تعلیمی مدد کے لیے اپنے دو آدمیوں کو ان کے ساتھ کر دیا۔ یہ عبداللہ بن ام مکتوم اور مصعب بن عمیر تھے۔ ان دونوں نے یثرب پہنچ کر اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام کیا جو پچھلے سال اسلام لا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader