Urdu book · سیرتِ رسول

مدینہ میں اسلام کا آغاز

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

چکے تھے۔ مدینہ کی فضا تبلیغ اسلام کے لیے سازگار ثابت ہوئی ۔ کیوں کہ یہودیوں کے پڑوس کی وجہ سے وہ آنے والے پیغمبر سے آشنا ہو چکے تھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ آنے والا پیغمبر یہودی اور عیسائیوں کے بجائے خود ان کی قوم ( عرب ) میں پیدا ہوا ہے تو وہ اور بھی خوش ہوئے ۔ انہوں نے کہا ، اب تک ہم یہودیوں کے مقابلہ میں اس لیے کمتر تھے کہ ان کے پاس آسمانی کتاب ہے اور ہمارے پاس نہیں۔ اب ہم عربی پیغمبر پر ایمان لا کر آسمانی کتاب کے مالک بن سکتے ہیں۔ یثرب میں اسلام کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ عبداللہ بن ام مکتوم اور مصعب بن عمیر ایک طرف مسلمانوں کو اسلامی احکام کی تعلیم دیتے ، دوسری طرف عام باشندوں میں اسلام کی تبلیغ کرتے ۔ اس تبلیغ کا ذریعہ زیادہ تر یہ ہوتا کہ وہ لوگوں کو قرآن کی آیتیں پڑھ کر سناتے جس کے اندر عربی زبان جاننے والے کے لیے بے پناہ تاثیری صلاحیت ہے ۔ یثرب کے ایک سردار اسید بن حضیر تھے ۔ ان کو ان مبلغین اسلام کی سرگرمیاں پسند نہ آئیں ۔ ایک روز تلوار لے کر ان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے ”تم لوگ ہمارے بچوں اور عورتوں کو کیوں بہکاتے ہو۔ تم یہاں سے چلے جاؤ ورنہ اچھا نہ ہوگا۔“ ”جو کچھ ہم کہتے ہیں ، آپ بھی اسے سنیں۔ اگر پسند آئے تو قبول کریں، ورنہ انکار کر دیں۔“ مصعب بن عمیر نے کہا۔ اسید بن حضیر سننے کے لیے تیار ہوئے تو مصعب بن عمیر نے قرآن کی آیتیں پڑھنی شروع کیں۔ اسید ان کو سن کر پکار اٹھے ” یہ کلام کس قدر عمدہ ہے‘‘ اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ اسی طرح سعد بن معاذ یثرب کے ایک ممتاز شخص تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ اسید بن حضیر نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ غصہ کی حالت میں مصعب بن عمیر کے پاس پہنچے ۔ مصعب نے ان سے بھی قرآن سننے کی درخواست کی۔ اور اس کے بعد کچھ آیتیں پڑھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page