مدینہ میں اسلام کا آغاز
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
کر سنائیں ۔ سعد پر اس کا اثر ہوا اور وہ اسی وقت اسلام کے حلقہ میں شامل ہو گئے۔ ان کا قبیلہ بنی اشہل بھی اپنے سردار کا ساتھ دیتے ہوئے اسی دن اسلام میں داخل ہو گیا۔ اس طرح 621 کے آخر تک یہودیوں کے سوایثرب کی بیشتر آبادی مسلمان ہو گئی۔ یثرب میں دعوتی کام شروع ہونے کے تیسرے سال 622ء میں، جب حج کا موسم آیا تو مدینہ کے پچہتر (75) مسلمان پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے اور مشورہ کرنے کے لیے مکہ آئے۔ ان میں دو عورتیں بھی تھیں۔ یہ لوگ اپنے وطن کے زائرینِ کعبہ کے قافلہ کے ساتھ آئے تھے اور انہیں کے ساتھ منیٰ میں قیام کیا تھا اور خفیہ طور پر پیغمبرِ اسلام کو پیغام دیا تھا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق، رات کو ایک گھاٹی ( عقبہ ) میں آپ نے ان سے ملاقات کی۔ اسی نسبت سے یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یثرب کے مسلمانوں نے اس موقع پر یثرب کے مقامی مسائل پر بھی آپ سے گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ یثرب کے قبیلوں میں آج کل ایک بادشاہ کے انتخاب کے سوال پر اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ اگرچہ ایک زرگر نے یثرب کے ایک سردار عبداللہ بن أبی کے سر کی ناپ لی ہے تا کہ وہ اس کے لیے تاج بنائے۔ مگر یثرب کے سرداروں کی اکثریت اس کو بادشاہ بنانے پر متفق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان حالات میں، جب کہ یثرب کے باشندوں کی ایک معقول تعداد مسلمان ہو چکی ہے، اگر آپ ہجرت کر کے یثرب چلیں تو وہاں کے لوگ بادشاہ کے بجائے ایک پیغمبر کے انتخاب پر راضی ہو جائیں گے۔ کیوں کہ آپ نہ صرف پیغمبر ہیں بلکہ طائفہ قریش سے ہیں اور آپ کے باپ یثرب کے پاس مدفون ہیں۔ یہ ایک نازک سوال تھا۔ کیوں کہ حضرت محمد، ساری تکلیفوں کے باوجود، اب بھی قریش کے ایک فرد تھے۔ مکہ سے ہجرت کر کے یثرب جانا قریش سے ہمیشہ کے لیے تعلق توڑ لینا تھا۔ قبائلی دور میں اپنے قبیلے سے کٹنا گو یا اپنے اعوان و انصار اور اپنے ذریعہ معاش دونوں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader