مدینہ میں اسلام کا آغاز
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
دست بردار ہو جانے کے ہم معنی تھا۔ آپ نے یثرب کے لوگوں سے کہا” کیا آپ لوگ میرے ساتھ بیعت النساء کرنے پر تیار ہیں“ بیعت النساء کا مطلب یہ تھا کہ اس بات کا عہد کیا جائے کہ بیعت والے کی حفاظت اپنے بچوں اور عورتوں کی طرح کریں گے۔ براء بن معرور نے نمائندگی کرتے ہوئے کہا: ”اے خدا کے رسول، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ جس طرح ہم اپنے بیوی بچوں کی حفاظت و حمایت کرتے ہیں، اسی طرح آپ کی بھی کریں گے۔ ہم میدان جنگ کے شہسوار ہیں“۔ یثرب کے لوگ بیت پر تیار ہو چکے تھے کہ ابو الہیثم بن التیہان نے آگے بڑھ کر کہا: ”اے خدا کے رسول، آپ تعلق کے بعد یثرب کے یہودیوں سے ہمارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کسی وقت مکہ لوٹ جائیں اور ہم کو تنہا چھوڑ دیں۔“ حضرت محمد نے فرمایا: ”ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ تمہارا خون میرا خون ہے، تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں تمہاری اور میری صلح و جنگ ایک ہے۔“ اس کے بعد بیعت شروع ہوئی۔ بیعت کے دوران عباس بن عبادہ نے کہا: ”اے گروہ خزرج، سمجھ لو کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو، یہ عرب و عجم کے خلاف اعلان جنگ پر بیعت ہے۔“ سب نے کہا ”ہاں ہم اسی پر بیعت کر رہے ہیں۔ ہمارا جان و مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔“ اس کے بعد آپ نے یثرب کے مسلمانوں (انصار) میں سے بارہ آدمیوں کو ”نقیب“ کی حیثیت سے چُنا اور ان سے کہا: أَنْتُمْ كَفَلَاءُ عَلَى قَوْمِكُمْ (الطبقات الکبریٰ، جلد 3، صفحہ 452)۔ یعنی، تم یثرب کے مسلمانوں پرنگراں ہو۔ اس طرح گویا ایک نئی جماعت وجود میں آئی جو اس وقت کے رواج کے بالکل خلاف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader